پاکستانی حکومت ایکشن لے: انڈیا

ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زدرای شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہیں لیکن انکے اس جذ بے کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر اس سمت میں پختہ اقدامات ہونے چاہیں۔
انہوں نے یہ بات صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک ٹی وی انٹریو میں کہی ہے۔
پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ انہیں زرداری کی نیت پر کوئی شک نہیں کیونکہ وہ خود شدت پسندی کا شکار ہیں۔ 'خود انکی اہلیہ شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئی تھیں۔‘
انٹریو میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ زدراری نہ صرف شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی وہ ایک اچھے اور مہذب انسان ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ' زرداری پر میرا یقین ہی کافی نہیں ہے۔ پاکستان اگر شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اس سمت میں اقدامات بھی کرنے ہونگیں۔‘
پرنب مکھرجی نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اچھا انسان بتایا لیکن انکا کہنا تھا کہ' سوال ذاتی شخصیات کا نہیں ہے بلکہ دو حکومتوں کا ہے‘ اور ہم جب آپسی رشتوں کی بات کرتے ہیں تو دو حکومتوں کی بات کرتے ہیں۔
گزشتہ برس 26 نومبر کو ممبئی پر ہوئے شدت پسندن حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی رشتوں میں تلخی آئی ہے۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ حملوں کے پیچھے پاکستانی شدت پسند عناصر کا ہاتھ ہے۔ ہندوستان کی جانب سے زبردست دباؤ کے بعد پاکستان نے تفتیش کے بعد یہ بات قبول کی ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بعض پاکستانی شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں کے بارے میں کی گئی تحقیقات کو ہندوستان نے ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔

















