حملہ بھیانک خطرے کا عکاس: انڈیا

کرکٹرز پر حملہ
،تصویر کا کیپشنسری لنکا کے کرکٹرز پر حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے

ہندوستان نے لاہور میں سری لنکا کے کرکٹرز پر شدت پسندوں کے حملے کو انتہائی تکلیف دہ قرارد دیا ہے۔

وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس بھیانک خطرے کا عکاس ہے جو پاکستان میں موجود منظم دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے در پیش ہے جو مسلسل اس طرح کی خونریزی کر رہی ہیں۔

مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ممبئی حملہ ہو یا لاہور میں کرکٹرز پر حملہ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب تک پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے ڈھانچے کو تباہ نہیں کیا جاتا اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزائیں نہیں دی جاتیں تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

’ہم ایک بار پھر پاکستانی حکام اور سبھی متعلقہ لوگوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اس مسئلے سے بین الاقوامی برادری کی توجہ دوسری طرف نہ ہٹائے اور اس مسئلے کا موثر طریقے سے سامنا کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آج دہشت گردی کسی ایک مخصوص جغرافیائی خطے تک محدود نہیں ہے۔ دہشت گردی آج امن عالم اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔’لاہور حملہ بین الاقوامی دہشت گردی کا حصہ ہے اس لیے عالمی برادی کو بھی اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا‘۔

خارجی امور کے وزیر مملکت آنند شرما نے کرکٹرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک بار پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں وہ ایک گمبھیر چیلنج ہیں۔' وہ نہ صرف اس خطے کے لیے، یہاں کے امن کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں‘۔

سری لنکا کے عوام اور کرکٹرز کے ساتھ اتحاد کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ ہندوستان کی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ اس حقیقت کے پیش نطر ایک شعوری فیصلہ تھا کہ وہاں دہشت گرد تنطیمیں آزادی کے ساتھ سرگرم ہیں اور' ہم اپنی ٹیم کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے تھے۔‘

'ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیوں کہ ہندوستان دونوں ملکوں کے درمیان رابطے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔‘ ملک کی سیاسی جماعتوں نے بھی کرکٹرز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔