سیاسی داؤ پیچ اور ترقی کے دعوے

ہندوستانی الکشن
،تصویر کا کیپشناتحاد کی صورت حال دو چار دنوں کے بعد واضح ہونے کی امید ہے

آئندہ سولہ اپریل کو ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ساتھ بہار میں بھی پندرہویں لوک سبھا کے لیے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہوگی تو اس بات کا بھی فیصلہ ہوگا کہ صوبے میں جمہوری نظام کے فیصلے کس حد تک سیاسی جوڑ توڑ پر منحصر ہیں۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اس الیکشن سے وزیر اعظم بننے کا خواب رکھنے والے ریلوے کے وزیر لالو پرساد کا سیاسی گراف طے ہوگا اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ترقی کے دعووں سے ووٹروں کو کس حد تک متاثر کر سکے ہیں۔

بہار میں سیاسی جماعتوں کی آخری بڑی جنگ گزشتہ اسمبلی الکشن کے دوران ہوئی تھی جس میں لالو پرساد کے پندرہ سالہ دور حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا اور نتیش کمار ترقی اور امن کے وعدوں کے ساتھ ہندو نواز بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشتراک سے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

گزشتہ اسمبلی الیکشن اور اس بار کے پارلیمانی الیکشن میں ایک بنیادی فرق بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی بار لالو پرساد اور رام ولاس پاسوان ایک دوسرے کے خلاف لڑے تھے اور اس بار پوری کوشش ہو رہی ہے کہ دونوں ساتھ لڑیں۔

رام ولاس کے ساتھ اتحاد کا نتائج پر کتنا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ انیس سو ننانو کے پارلیمانی الکشن میں جب رام ولاس نتیش کمار کے ساتھ تھے تو لالو کی پارٹی آر جے ڈی کو صرف سات سیٹیں ملی تھیں لیکن دو ہزار چار کے الیکشن میں رام ولاس اور لالو کی پارٹیوں میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوا تو لالو کی پارٹی کو بائیس سیٹیں ملیں۔

اس سیاسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ اعداد وشمار کافی مددگار ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں لالو پرساد اور رام ولاس پاس ایک دوسری کے خلاف لڑے تو مرکز میں حکمراں سیاسی اتحاد یو پی اے کی پارٹیوں کو انچاس فی صد ووٹ ملے مگر تینتالیس فی صد ووٹ حاصل کر کے نتیش کمار اور بی جے پی نے کافی زیادہ سیٹیں حاصل کر کے حکومت بنا لی۔

سینئر صحافی شری کانت کہتے ہیں 'پارلیمانی الیکشن میں جیت کی بدولت لالو نے اپنا سیاسی درجہ بلند رکھنے میں کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ اس بار اگر انہیں دوبارہ شکست ہوئی تو ان کا سیاسی کیریر مشکل میں پڑ سکتا ہے۔'

لالو پرساد
،تصویر کا کیپشناس الکشن سے وزیر اعظم بننے کا خواب رکھنے والے ریلوے کے وزیر لالو پرساد کا سیاسی گراف طۓ ہوگا

وہ کہتے ہیں کہ یہ الیکشن لالو کی سیاسی دانشمندی کا امتحان ہوگا اور جس طرح رام ولاس پاسوان کے ساتھ اتحاد قائم رکھنے کی کوشش وہ کر رہے ہیں اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بات کا احساس لالو کو بھی بخوبی ہے۔ جھارکھنڈ کی علیحدگی کے بعد بہار میں لوک سبھا کی چالیس سیٹوں کے لیے ہونے والی سیاسی جنگ کے لیے لالو کا انحصار اگر سیاسی اتحاد پر نظر آتا ہے تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ اپنی حلیف بی جے پی کے ساتھ ترقی، خواتین کے لیے پچاس فی صر ریزرویشن اور امن و آمان کی 'بہتر صورت حال' کے دعوں کی مدد لینے کی کوشش کر تی نظر آ رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتیش کے لیے اپنے ترقی کے دعووں کو ثابت کرنا شاید اتنا مشکل نہ ہو جتنا انہیں حریف سیاسی اتحاد سے نمٹنے اور اپنے اتحاد کا بھر پور فائدہ اٹھانے میں ہو سکتا ہے۔

نتیش کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ لال کرشن آڈوانی کے وزیر اعظم بننے سے ہونے والے مبینہ خطرات کا چرچہ جس طرح لالو پرساد اور انکی حلیف جماعتیں کریں گی، اس کا وہ کیا جواب دیں گے۔

لالو پرساد اپنی تقریریوں میں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر نتیش کمار کو رام مندر سے مطلب نہیں تو بقول لالو 'نتیش بی جی پی کو ڈائیوورس کیوں نہیں دے دیتے'۔ اسکے جواب میں نتیش کمار کہتے ہیں کہ رام مندر بی جے پی کے لیے ایشو ہو سکتا ہے انکی پارٹی کے لیے نہیں۔ نتیش کمار لالو اور رام ولاس پاسوان کے ممکنہ اتحاد کو آنکھوں میں دھول جھونکے والا بتا رہے ہیں۔دوسری جانب وہ کہتے ہیں کہ اڑیسہ میں بی جے پی کا حکمراں بیجو جنتا دل سے اتحاد ٹوٹنے کے بعد بہار میں ایسی صورت حال پیدا نہ ہوگی۔ اتحاد کی صورت حال دو چار دنوں کے بعد واضح ہونے کی امید ہے کیونکہ فی الوقت سب کچھ ہولی کے رنگوں سے پوشیدہ ہے۔