’آئین مذہبی آزادی کو تحفظ دیتا ہے‘

ملک تب تک خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ملک کی خواتین ترقی نہیں کرتیں اور لڑکیوں کو اسکول اور کالجز میں تعلیم کے مساوی مواقع نہین فراہم کیے جاتے ۔ یہ الفاظ ہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے جو دل کے آپریشن سے صحت یابی کے بعھ عوامی زندگی میں دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں ۔
مسٹر سنگھ نے کل شام اپنی رہائش گاہ پر عید میلادالنبی کے موقع پر دلی کے ایک اردو میڈیم اسکول کی بچیوں سے ملاقات کی ۔ انہوں نے بچیوں سےباتیں کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا آئین ہر شخص کو اپنی مرضی کے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ اور فروغ کی مکمل اجازت دیتا ہے، لیکن یہ کسی کو دوسرے کے مذاہب کی تنقید اور تحقیر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ اردوزبان ہندوستان کی ملی جلی ثقافت اور تہذیب کی ایک زندہ مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نےاردو زبان کی ترقی اور فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور مستقبل میں بھی اس زبان کی ترقی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے ۔
منموہن سنگھ کا 23 جنوری کو دل کا آپریشن ہوا تھا۔ آپریشن کے بعد وہ دلی میں اپنی رہائش گاہ پر آرام کر رہے تھے ۔ ان کی غیر موجودگی میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی ان کی ذمے داریاں نبھا رہے تھے ۔
مسٹر سنگھ صحتیا بی کے بعد اب ایک بار پھر سیاست میں واپس آ رہے ہیں ۔ پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اور مسٹر سنگھ اس مہینے کے اواخر سے انتخابی مہم میں حصہ لیں گے ۔ وہ جی- 20 کی میٹنگ میں شرکت کے لیے اپریل کے اوائل میں لندن بھی جائیں گے جہاں دیگررہنماؤں کے علاوہ امریکی صدرباراک اوبامہ سے ان کی پہلی ملاقات ہونی ہے۔
ہندوستان میں اس وقت انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور منموہن سنگھ حکمراں کانگریس کے وزارت عظمی کے امید وار ہیں۔

















