میں سیاسی سازش کا شکار ہوا: ورن گاندھی

اتر پردیش میں پیلی بھیت حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امید وار ورون گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے کسی خاص برادری کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دیا ہے اور ان کی سیکولر شبیہ کو خراب کرنے کے لیے ان کے خلاف سیاسی سازش کی جارہی ہے۔
گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے ورون گاندھی کو انتخابی مہم کے دوارن اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں نوٹس جاری کیا تھا۔
دلی میں ذرائع بلاغ کو اس بارے میں اک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا '' جب بھی کوئی اپنی ہندو شناخت کی بات کرتا ہے تو اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور فرقہ پرست کہا جاتا ہے۔ میں اپنے عقیدے پر فخر کرتا ہوں۔ میں گاندھی ہوں، ہندو ہوں اور ہندوستانی بھی۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس کا مقد نفرت پھیلانا ہو۔''
ورون گاندھی کا کہنا تھا کہ جس علاقے سے وہ انتخاب لڑ رہے ہیں وہاں کے ہندوؤں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کچھ باتیں کہی تھیں جن کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ '' پیلی بھیت حلقہ اور خاص طور پر یوپی کے شمالی علاقے میں حال میں کئی فرقہ وارانہ اور پر اشتعال واقعات ہوئے ہیں۔ کئی گھوروں میں گائے کا ذبیحہ ہوا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ہزاروں ہندوؤ ں کو گھر میں نظر بند کیا گیا ہے اور تین مندروں میں لوٹ پاٹ ہوئی ہے یہ سب اس علاقے کی باتیں ہیں جہاں میرا خطاب ہوا تو میں نے ہندوؤں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کچھ باتیں کہیں۔''
انتخابی کمیشن نے ورون گاندھی پر مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزامات کے تحت ان سے وضاحت طلب کی ہے۔
پیلی بھیت انتخابی حلقے سے ورون گاندھی کی ماں مینکا گاندھی (اندرا گاندھی کی چھوٹی بہو) انتخابی میدان میں اترتی رہی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ ورون گاندھی اپنی قسمت آزمانے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک انتخابی ریلی میں ورون گاندھی نے کہا 'یہ ہاتھ نہیں ہے، یہ کمل کی طاقت ہے جو کسی کا سر قلم کر سکتا ہے۔‘
ہندوستان کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیو کلپنگز ميں ورون گاندھی کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی ہندؤوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے یا پھر یہ سوچتا ہے کہ ہندؤں کی سربراہی کرنے والا کوئی نہیں ہے تو میں گیتا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس ہاتھ کو کانٹ دوں گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے خطاب میں ورون گاندھی نے مہاتما گاندھی کے مشہور عدم تشدد کے فلسفے کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ميں اسے بیوقوفی مانتا ہوں کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر ایک چانٹا مارے تو آپ دوسرا گال آگے کر دیں ۔۔۔۔اس کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ وہ کسی دوسرے پر بھی ہاتھ نہ اٹھا سکے۔
حالانکہ ورون گاندھی نے پیلی بھیت کے ضلع مجسٹریٹ کو دیے اپنے جواب میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے اس سے انکار کیا ہے۔
حکمراں جماعت کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ورون گاندھی کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔






















