انٹرنیٹ پر سماجی ویب سائٹ کی نگرانی

برطانوی حکومت انٹرنیٹ پر سماجی تعلقات کے لیے فیس بک جیسی ویب سائٹ استعمال کرنے والوں کے رابطوں کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے ایک تجویز کے تحت ایسی سماجی ویب سائٹس کی نگرانی کر نے کی بات کہی ہے۔
دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ مجرموں اور شدت پسندوں کی نگرانی کے لیے ،جو اس طرح کی ویب سائٹ کا استعمال کر سکتے ہیں اس کی ضرورت پڑی ہے۔ لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے مواد کو اپنے پاس نہیں رکھے گی۔
یہ نظریہ اس تجویز کے بعد سامنے آیا ہے کہ بر طانیہ میں جتنی بھی فون کال، ای میل یا انٹرنیٹ وزٹس ہوں ان کی تفصیلات رکھی جائیں۔
لیکن سول لبرٹی گروپز نے حکومت کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور اسے جاسوسی کے ایک چارٹر سے تعبیر کیا ہے۔
لبرل ڈیموکرٹیک پارٹی کے رکن پارلیمان ٹام بریک نے کہا ہے کہ ویب سائٹ پر حساس نوعیت کی ذاتی تفصیلات ہوتی ہیں اور انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اس طرح کی انفارمیشن کہیں ڈیٹا رکھنے والے حکومتی اداروں کی طرف سے افشاں نا ہوجائیں۔
اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے لکھا ہے کہ ٹام بریک نے اسے ’تاریخ میں جاسوسی کے لیے اب تک کا سب سے مہنگا چارٹر بتایا ہے۔ یہ بڑی فکر کی بات ہے کہ اب وہ سماجی تعلقات والی ویب سائٹ کی بھی نگرانی رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں جنسی تعلقات، مذہبی عقائد اور سیاسی خیالات جیسی حساس معلومات ہوتی ہیں۔‘
اخبار کے مطابق فیس بک کے پراوئیسی اہل کار کرس کیلی وزراء کو اس بات کے لیے قائل کرنے کر کوشش کر رہے ہیں یہ تجویز غیر ضروری ہے۔
حکومت فون، ای میل اور انٹرنیٹ سے متعلق بھی اسی طرح کی تجویز پر یا توغور کر رہی ہے یا پھر اس عمل شروع ہو گیا ہے۔ لیکن وزراء اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ حکومت لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی اس بات پر غور کرنا شروع کریں گے کہ ایڈوانس تکنیکی ترقی کے ساتھ کیسے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے۔ ’حکومت کو سماجی تعلقات والی ویب سائٹ پر موجود مواد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس بارے میں صلاح و مشورہ کا بھی کوئی ادارہ نہیں ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ’ہم اس بات میں بالکل واضح ہیں کہ اس ملک میں کیمونیکیشن کاانقلاب بہت تیز ہے اور جس طرح ہم ڈیٹا جمع کرتے رہے ہیں اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لائق بنے رہیں کہ وہ دہشتگردکی روک تھام کرسکیں اور ثبوت بھی جمع کر سکیں۔‘
اس نئی تجویز کی تفصیلات وزیرداخلہ ویرنن کوکر نے اس ماہ کے اوئل میں یوروپی یونین کی ہدایات کی قرارداد پر غور و فکر کے لیے کمیٹی میں بتائیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سماجی ویب سائٹ پر کارروائی کرنا چاہتی کیونکہ برسلز نے حال میں جو تجاویز دی تھیں اس میں ان کا احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔





















