فیس بک کی تبدیلیوں پر اعتراضات کی بھرمار

تقریباً ایک ملین افراد نےسوشل نیٹ ورکنگ کی معروف ترین ویب سائیٹ فیس بک میں کی جانے والی تبدیلیوں کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
فیس بک کی یہ تبدیلیاں اسے ایک ایسی ہی ویب سائیٹ ’ٹوٹر‘ سے مشابہہ کرتی ہے۔ حالیہ تبدیلیوں کے ذریعے فیس بک میں زیادہ اہمیت ’سٹیٹس اپ ڈیٹس‘ کو دی گئی ہے۔
فیس بک استعمال کرنے والوں نے ان تبدیلیوں پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ویب سائیٹ ہی کی ایک رائے شماری کے مطابق 94 فیصد لوگ نئے فارمیٹ کے خلاف ہیں۔
گزشتہ برس ٹوٹر (twitter) کے استعمال میں 1689 فیصد اضافہ ہوا تھا تاہم فیس بک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ٹوٹر پر منفی طور پر اثر انداز ہوئی۔ ٹویٹر کے مقابلے میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 175 ملین زیادہ ہے۔
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نئے فارمیٹ کا دفاع کیا ہے۔ تاہم استعمال کرنے والے کئی افراد نے فیس بک کے اس اقدام پر کری تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلیاں متعارف کرنے سے پہلے یا بعد میں استعمال کرنے والوں کو یہ سہولت نہیں دی گئی کہ آیا وہ یہ تبدیلیاں چاہتے ہیں یا پرانے فارمیٹ کے ساتھ ہی فیس بک استعمال کرنا چاہیں گے۔
فیس بک کی نئی شکل میں فوٹوز اور ویڈیوز پس منظر میں چلے گئے ہیں اور اہمیت سٹیٹس اپ ڈیٹس پر مرکوز نظر آتی ہے۔ فوٹوز اور ویڈیوز سیدھے ہاتھ پر شائع ہونے والے اشتہارات کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں جبکہ دوستوں کے سٹیٹس اپ ڈیٹس صفحے کے درمیان دکھائی دیتے ہیں۔
فیس بک کے مطابق اگر آپ کسی فرد یا افراد کے سٹیٹس اپ ڈیٹ میں دلچسپی نہیں رکھتے تو اس اپ ڈیٹ کے سیدھے ہاتھ پر موجود کراس کو کلک کرکے اسے فلٹر کرسکتے ہیں۔



