مہاراشٹر: غریب شہریوں کے امیر نمائندے

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
اچھا ہو الیکشن کمیشن کا جس نے عوامی نمائندوں کے لیے ان کی جمع پونجی ظاہر کرنےکو لازمی قرار دیا۔ اس سے ہمیں یہ تو پتہ چلا کہ وہ جو آپ کے دروازے پر ہاتھ باندھے ووٹ مانگنے آتے ہیں وہ کتنے امیر ہیں۔ اگر ہم صرف مہاراشٹر کی بات کریں جہاں بھوک مری کی وجہ سے ہزاروں کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ تھانے اور اس کے نواحی علاقوں میں بھوک مری سے کئی اموات ہو رہی ہیں مگر وہاں کے نمائندوں کے پاس لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے ہیں۔ سماج وادی لیڈر ابو عاصم اعظمی کی املاک ایک سو چوبیس کروڑ روپے ہے۔ بہوجن سماج وادی پارٹی کے نمائندے حسن علی اکتیس کروڑ روپے ، بی جے پی کے نمائندے مہیش جیٹھ ملانی اٹھائیس کروڑ روپے اور بہو جن سماج پارٹی کے نمائندے شیخ ابراہیم بھائی جان کے پاس پچیس کروڑ روپے ہیں۔ ممبئی سے باہر نکلیں تو بی جے پی کے نمائندے گوپی ناتھ منڈے چھ کروڑ باون لاکھ روپے فہرست طویل ہے۔ لیکن شکر ادا کیجئے یہ وہ دولت ہے جس کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے، بے نامی دولت کا تو حساب بھی لگانا ممکن نہیں۔
میرا سانیال کی ہمت
میرا سانیال جنوبی ممبئی سے پارلیمانی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ انڈیا میں اے بی این ایمرو بینک کی چیف میرا سانیال کا کہنا ہے کہ چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے حملے نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اسی حملے نے انہیں سیاست میں آنے پر مجبور بھی کیا۔ الیکشن لڑنے تک یعنی پندرہ مئی تک انہوں نے بینک سے رخصت لی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر وہ بینک ملازمت ترک کر کے مستقل طور پر سیاست میں قدم رکھ دیں گی۔ محترمہ ملک کو آپ جیسے تعلیم یافتہ افراد کی ہی ضرورت ہے جو بقول آپ کے صحیح معنوں میں سماج کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ جیت جاتی ہیں تو ایک مثال قائم ہو جائے گی۔لیکن اگر آپ ہار گئٰیں تو پھر شائد کوئی کبھی ہمت نہ کر سکے۔ ویسے کیا الیکشن جیتنے کے ہتھکنڈے آپ جانتی ہیں؟ کیا آپ کے پاس خطیر رقم ہے جسے آپ لوگوں میں بانٹ سکیں؟ تو پھر آپ سیاست کے ان گلیاروں کی راہی کبھی نہیں ہو سکتی ہیں کیونکہ یہی سب تو آج کل کی سیاست کا لازمی حصہ ہیں۔
اٹھائیس امیدواروں کا جمگھٹ
کارپوریشن الیکشن ہوتے تو بات شاید سمجھ میں بھی آتی لیکن پارلیمانی الیکشن اور ایک ہی سیٹ سے اٹھائیس امیدوار میدان میں۔ یوت مال اور واشم حلقے سے اتنے امیدواروں کی وجہ سے ووٹوں کا کتنا بٹوارہ ہو گا اس کی فکر تو نہیں البتہ الیکشن کمیشن کو فکر لاحق ہوئی ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کہاں سے لائیں گے۔کیونکہ ایک پولنگ بوتھ پر ایک مشین میں سولہ امیدواروں کے نام تک آسکتے ہیں اگر زیادہ نام ہوئے تو پھر دوسری مشین بھی ساتھ میں رکھنی ہو گی۔ الیکشن افسر کے مطابق انہیں ودربھ اور مراٹھواڑہ حلقے کے لیے سولہ ہزار پانچ سو سے زائد مشینیوں کی ضرورت ہو گی کیونکہ ان دونوں اضلاع سے سولہ سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔
بیسٹ بسوں میں تشہیر
تشہیر کے نئے نئے جدید طریقے۔اگر بی جے پی کانگریس پارٹیاں موبائیل فون پر ایس ایم ایس اور ٹیلی ویژن پر اپنی پارٹی کی تشہیر کرتی ہیں تو اب سماج وادی اور کانگریس پارٹی ممبئی کی ایک ہزار تین سو پینتیس بیسٹ بسوں میں لگے ایل سی ڈی سکرین پر اپنا اشتہار کریں گے۔ بس میں سفر کرنے والا عام طبقے تک پہنچنے کا اس سے اچھا اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ بیسٹ کمپنی نے اجازت دے دی ہے لیکن ابھی الیکشن کمیشن سے اجازت ملنا باقی ہے۔
















