بہار میں الیکشن

نتیش کمار
،تصویر کا کیپشن نتیش کمار کو اپنی حکومت کی کار کردگی پر بھروسہ ہے

اب جبکہ پندرہویں لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں چند گھنٹے رہ گیے ہیں بہار میں یہ چرچہ عام ہے کہ اس الیکشن کا سرپرائز رزلٹ کیا ہو سکتا ہے۔ بہار کے موجودہ انتخابی تناظر میں بظاہر لالو پرساد اور رام ولاس پاسوان کے اتحاد کا مقابلہ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو اور اسکی حلیف بی جے پی کے اتحاد این ڈی اے کے درمیان ہے لیکن کم از کم دو پارٹیاں ایسی ہیں جن سے 'اپسیٹ رزلٹ' دینے کی امید کی جا رہی ہے۔

ان پارٹیوں کے امیدواروں سے بھلے ہی جیتنے کی امید کم ہو لیکن کسی پارٹی کے حساب کتاب کو بگاڑ کر اس کے امیدوار کو ہرانے میں انکا اہم رول ہو سکتا ہے۔ پندرہ سال سے لالو پرساد کے سیاسی دبدبے سے دبی کانگریس اس بار تن تنہا الکشن لڑ رہی ہے اور اس کے حمایتی پرامید ہیں کہ وہ پہلے سے کہیں بہتر مظاہرہ کریں گے۔

دوسری جانب یوپی کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی ہے جس کے حمایتی بھی اپنی پارٹی کا بہار سے کھاتا کھولنے کو پر اعتماد نظر آ رہے ہیں۔

سرسری طور پر اس الیکشن کو نتیش کمار کے ترقیاتی کام کے دعوں اور لالو و پاسوان کے اتحاد کے درمیان مقابلہ مانا جا رہا ہے ۔ لیکن بہار کی چالیس سیٹ پر شاید ہی سیدھی ٹکر ہو رہی ہو۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبہار کے ووٹر پارٹیوں کے متعلق جلدی ہی فیصلہ کر دیں گے

لالو پرساد کہتے ہیں کہ سنہ دو ہزار چار میں وہ پاسوان کے ساتھ مل کر لڑے تھے تو انتیس سیٹیں ملیں تھیں، اس بار تو ملائم سنگھ یادہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ لالو اپنی ہر میٹنگ میں یہ کہنا نہیں بھولتے ' جو لوگ انہیں زیرو پر آوٹ کرنے کی بات کرتے ہیں انکی گیند کو باؤنڈری سے باہر کر سکسر لگایں گے۔'

دوسری جانب نتیش کمار کا کہنا ہے کہ لالو اور پاسوان نے گزشتہ اسمبلی الکشن کے دوران ایک دوسرے کے خلاف جم کر الزم تراشی کی تھی، اب مل گیے ہیں مگر بقول نتیش 'اب ذات پات کی بنیاد پر کامیابی نہیں ملنے والی''۔

ان دونوں سیاسی رہنماوؤں کے لیے دقتیں بھی کم نہیں۔ جارج فرنانڈیز جیسے سینیئر سیاست داں اس بار نتیش کی پارٹی کے امیدوار نہیں بنائے جانے کے بعد مظفر پور سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ سابق جونیر وزیر خارجہ دگ وجۓ سنگھ بھی نتیش کا ساتھ چھوڑ کر بطور آزاد امیدوار الکشن لڑ رہے ہیں۔

اسی طرح لالو پرساد اپنے سالے سادھو یادو کی وجہ سے کافی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں مگر اس بار سادھو مغربی چمپارن سیٹ سے لالو- پاسوان اتحاد کے امیدوار مشہور فلم ساز پرکاش جھا کے خلاف بطور کانگریس امیدوار میدان میں ڈٹے ہیں۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبہار میں کانگریس تن تنہا انتخاب میں اتری ہے

لالو اس بار دو جگہوں چھپرہ اور پٹنہ کی پاٹلی پترا سیٹ سے امیدوار ہیں۔ پٹنہ میں رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی کے سابق سینیر لیڈر رنجن یادو نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے امیدوار ہیں۔ کانگریس نے بھی یہاں سے یادو ووٹ کاٹنے کی امید میں وجۓ سنگھ یادو کو ٹکٹ دیا ہے۔

دوسری جانب چھپرہ میں لالو کا مقابلہ بی جے پی کے سینیر لیڈر راجیو پرتاپ روڈی سے ہے۔ یہاں سے بہوجن سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر سلیم پرویز بھی میدان میں ہیں۔ سیلم پرویز کے حمایتیوں کا دعویٰ ہے کہ سلیم پرویز کی پوزیشن مستحکم ہے اور انہیں مقامی ہونے کا فائدہ ملے گا۔

اس الیکشن کے رزلٹ میں جن نکلنے کی قیاس آرائی کی بڑی وجہ مسلمان ووٹروں کا رجحان مانا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے کانگریس اب پہلے کی طرح ممنوع نہیں رہی اور کچھ نہ کچھ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ عام مسلمانوں سے بات کرنے پر یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ نتیش کمار کے کام کاج سے ایک حد تک مطمئن ہیں لیکن لال کرشن آڈوانی کے نام پر وہ نتیش کو ووٹ دینے کے سلسلے میں بہت دلچسپی نہیں رکھتے۔

ایک طرف لالو اور پاسوان لال کرشن آڈوانی کو وزیر اعظم نہ بننے دینے کے لیے مسلمانوں سے اپیلیں کر رہے ہیں تو دوسری جانب نتیش کمار کی پارٹی خود کو اقلیتوں کا سچا ہمدرد بتا رہی ہے۔

نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو بھاگلپوور کے فساد زدگان کو خصوصی پیکج دلاکر انصاف دلانے کا دعویٰ کر ہی ہے۔ اس کے علاوہ قبرستانوں کی گھیرا بندی کا حوالہ بھی جے ڈی یو کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔

اپسیٹ رزلٹ کی قیاسی آرائیوں کے درمیان ریاست کی مدھوبنی سیٹ کا چرچہ بھی ہو رہا ہے جہاں سے مرکزی وزیر ڈاکٹر شکیل احمد کانگریس کے امیدوار ہیں۔ مد مقابل ہیں بی جے پی کے حکم دیو نارائن یادو۔ اس سیٹ پر پیچیدگی لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی کے ذریعہ عبداباری صدیقی کو میدان میں اتارنے سے پیدا ہو گیئ ہے۔

بہار کی سیاست میں سیوان سیٹ کا چرچہ بھی کم نہیں۔ یہاں سے متنازعہ اور سزا یافتہ رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کی اہلیہ لالو کی پارٹی آر جے ڈی سے امیدوار بنی ہیں۔ دوسری جانب جے ڈی یو سے سینیر رہنما وریشن پٹیل ہیں۔ مقابلہ کو دلچسپ بنا رہے ہیں جے ڈی یو کے باغی امیدوار اوم پرکاش یادو جبکہ یہاں کی سیاست کا اہم عنصر رہی سی پی آئ ایم ایل بھی میدان میں ڈٹی ہے۔ کانگریس اور آر جے ڈی کی اس جنگ سے جن نکلے تو کسی کو شاید ہی حیرت ہو۔ پٹنہ کے دوسرے پارلیمانی حلقے سے مشہور فلم اداکار شتروگھن سنہا کے لیے کامیابی آسان مانی جا رہی تھی مگر آخری وقت میں کانگریس نے یہاں سے معروف ٹی وی پریزنٹر شیکھر سمن کو اپنا امیدوار بناکر اس جنگ کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں کا تعلق کایستھ ذات سے ہے اور سیاسی پارٹیوں کا ذات کی بنیاد پر فتح حاصل کرنے کا حساب کتاب ختم نہیں ہوا ہے۔