نکسلی تشدد، جمہوریت کےلیےچیلنج

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
پوری دنیا میں اس وقت ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ میں انتخابات کا تذکرہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس عمل کے لیے سب سے بڑا چیلنج پیش کرنے والی تحریک کے طور پر نکسل ازم بھی پوری طرح سرگرم عمل ہے۔
ایک جانب اگر ووٹ ڈالنے کے لیے لمبی لمبی قطاروں کی تصاویر ٹیلی ویژن چینلوں پر نظر آرہی ہیں تو دوسری جانب سینکڑوں پولنگ بوتھ ایسے ہیں جہاں نکسلی تشدد کے ڈر سے یا تو ووٹنگ کرانے والے نہیں پہنچیں گے یا ووٹ ڈالنے والے دور رہیں گے۔ سیاسی مبصرین اسے جمہوری عمل کے لیے بہت بڑا چیلنج مانتے ہیں۔
بہار، جھارکھنڈ اور اس کے آگے اڑیسہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ ، آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں میں نکسلی تشدد کی خبریں عام دنوں میں تو عام ہیں لیکن انتخابات کے دوران نکسل تحریک چلانے والے جس طرح سرگرم نظر آ رہے ہیں وہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کے لیے کھلے چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار انل پرکاش کہتے ہیں کہ سماجی نا انصافی کے خلاف جو لڑائی نکسلی تحریک چلا رہی ہے اس کا طریقۂ کار جمہوری عمل کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ وہ کہتے ہیں ’جس طرح ہر علاقے کے دیہاتوں میں نکسلی اشتہار چپکا کر ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت جاری کرتے ہیں وہ عام آدمی کے دماغ پر کافی اثر انداز ہوتا ہے‘۔

نکسل تحریک چلانے والے ہر انتخاب کے پہلے اعلانیہ طور پر لوگوں سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل جاری کرتے ہیں اور اپیل نہ ماننے والوں کو تشدد کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ نکسلی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو بھی اس عمل سے دور رہنے کی ہدایت دیتے ہیں اور ایسا نہ کرنے پر انہیں بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ جواب میں حکومت کی جانب سے سب سے مضبوط سکیورٹی کا دعوٰی بھی پیش کیا جاتا ہے، مرکزی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی بھی ہوتی ہے لیکن نکسلی تشدد رکتا نظر نہیں آتا۔
حالیہ انتخابات میں بھی نکسلی پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔ ووٹنگ سے ٹھیک پہلے بہار کے روہتاس ضلع میں نکسلیوں نے بارڈر سیکیورٹی فورس کے کیمپ پر حملہ کیا جس کے دوران مارٹر اور راکٹ حملے بھی کیے گئے۔ جھارکھنڈ میں نکسلیوں نے دو پولیس والوں کو ووٹنگ کے ٹھیک پہلے بارودی سرنگ کے حملے میں ہلاک کیا اور پولنگ کے ابتدائی چار گھنٹوں میں ہی مختلف ریاستوں سے کم از کم آٹھ نکسلی حملوں کی خبریں آ چکی ہیں۔
انل پرکاش کہتے ہیں کہ پولیس پر حملے تو نکسلی چیلنج کی طبعی علامت ہیں۔ اصل خطرہ تو یہ ہے کہ ووٹ کے بائیکاٹ کو عام آدمی اپنے عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہے۔ بقول انل’اسی لیے ووٹنگ کا بائیکاٹ متعدد جگہوں پر نکسل اپیل کے بغیر بھی ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ نکسلی اس کے لیے تشدد کا سہارا لیتے ہیں اور بہت سے افراد پر امن طریقے سے ایسا کرتے ہیں‘۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے سے روکنے کی اپیل کرنے والے پوسٹرز اور پرچوں میں نکسلی کارکن اب یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں ان کے لیڈر بھی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ بہت سے سیاسی تجزیہ نگار اسے ایک تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ نیپال کی طرز پر ہندوستانی ماؤ نواز بھی اب سیاست میں حصہ لینے کا سوچ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







