ابھی وزیر اعظم بننے کو تیار نہیں: راہول

کانگریس کے جنرل سیکرٹری راہول گاندھی نے کہا ہے کہ وہ ابھی ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیےتیار نہیں ہیں۔
کولکتہ میں ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں این ڈی اے کو اس لیے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے ملک کے غریب آدمی کو نظر انداز کیا تھا۔
انہوں نے کہا جب یو پی اے (قومی ترقی پسندمحاذ) نے روزگار گارنٹی جیسی سکیم ملک کو دی، کسانوں کو ستر ہزار کروڑ روپے کے قرضے کی معافی دی تو حزب اختلاف کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں۔
راہول گاندھی نے ریاست مغربی بنگال کی مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’بائیں محاذ کے بارے میں میرا خیال تھا کہ ان کی توجہ غریب لوگوں پر ہی مرکوز رہتی ہے لیکن مغربی بنگال میں آکر مجھے ایسا نظر نہیں آیا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریہ اور تقسیم کی سیاست نےمنہدم کیا ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مستقبل میں کانگریس اقتدار میں آنے کے لیے بائيں محاذ کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے اس موضوع پر کچھ کہنا پسند نہیں کریں گے اور اس کے لیے سولہ مئی کا انتظار کرنا چاہیے۔
نیوز کانفرنس میں راہول گاندھی بھارتیہ جنتا پارٹی سے زيادہ بائیں محاذ پر حملہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کی ایک وجہ ان کا کولکتہ میں ہونا بتایا جا رہی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا ’بائیں بازو نے پیسے کی آمد کے لیے کوئی نظام نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے پاس ترقی کے لیے کوئی صحیح پالیسی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ترقی ہوگی کچھ لوگوں پر اس کا اثر بھی ہوگا۔ ان دونوں میں ایک توازن بنانے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نندی گرام کے معاملے میں بایاں محاذ کی حکومت وہ توازن نہیں بنا سکی۔
سری لنکا کے معاملے پر انہوں نے کہا وہ ذاتی طور پر ایل ٹی ٹی آئی کی حمایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے میرے والد کو مارا تھا لیکن سری لنکا میں تمل شہریوں کی حفاظت کرنے کی تمام کوششیں کرنی چاہیے۔





















