اور اب چوتھا محاذ ؟

لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان

ہندوستان میں جیسے جیسے انتخابات کے دن قریب آ رہی ہے ویسے ویسے سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کی سیاست میں بھی تیزی آ تی جا رہی ہے۔

جمعرات کو حکمراں قومی ترقی پسند محاذ یعنی یو پی اے کی اتحادی جماعت پی ایم کے نے تمل ناڈو میں حکمراں ڈی ایم کے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈیم ایم کے بھی یو پی اے میں شامل ہیں۔ پی ایم کے رہنما اور مرکزی وزیر صحت امبو منی رام داس نے صحافیوں کو بتایا کہ پارٹی کی ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں وہ اے آئی اے ڈی ایم کے ساتھ شامل ہوگی۔

امبو منی رام داس کہہ رہے تھے کہ وہ جلد ہی اپنے استعفی وزير اعظم کو سونپ دیں گے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ذاتی طور پر ان کے اور کانگریس کے رہنماؤں کے رشتے اچھے رہے ہيں اور آگے بھی جاری رہیں گے۔

ادھر کانگریس نے پی ایم کے کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہيں ہے۔

کانگریس کے سیئنر رہنما کپل سبل کا کہنا تھا جہاں تک پی ایم کے کا سوال ہے تو یہ سب کو پتا تھا کہ پی ایم کے ہمارا ساتھ چھوڑنے والی ہے۔ ہم نہيں چاہتے تھے کہ وہ ہمارا ساتھ چھوڑے لیکن آخری فیصلہ کرنے کا حق پارٹی کا ہی ہوتا ہے۔

تمل ناڈو کے ایک مقامی صحافی دلیپ چاری کے مطابق پی ایم کا یو پی اے سے الگ ہونا یو پی اے کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ادھر شمالی ہندوستان میں شاید چوتھا محاذ بننے جا رہا ہے۔ جمعرات کو سماج وادی پارٹی نے کہا ہے کہ اتر پردیش اور بہار میں وہ راشٹریہ جنتا دل اور لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ مل کرے انتخابی میدان میں اترے گی۔دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری امر سنگھ نے بتایا کہ محاذ کی تشکیل کا باقائدہ اعلان آنے والے دنوں ميں کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار نہيں اتاریں گی جبکہ بہار اور اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل اور رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی کی انتخابی مہم میں شامل ہوں گے جبکہ یہ دونوں جماعتیں اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی انتخابی مہم ميں حصہ لیں گی۔

اس نئے مجاذ کے بارے میں راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو کا کہنا تھا ’یہ کوئی نیا محاذ نہیں ہے بلکہ فرقہ پرست طاقتوں کو درکنار کرنا ہی ہمارا اہم مقصد ہے۔‘ لوک جن شکتی پارٹی کے رہنما رام ولاس پاسوان نے بھی اسے نیا محاذ قرار دینے سے انکار کیا اور کہا یہ محاذ کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہيں بنایا گیا ہے بلکہ فرقہ پرست طاقتوں کو کچلنے کے لیے ہے۔‘

لالو اور پاسوان دونوں کی ہی جماعتیں قومی ترقی پسند محاذ یعنی یو پی اے کا حصہ ہیں۔ اور اس سے قبل لالو اور پاسوان نے بہار میں ایک ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان کیا تھا۔