ممبئی: الیکشن سے قبل سخت سکیورٹی

’پولیس کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی‘
،تصویر کا کیپشن’پولیس کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی‘
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

تیس مئی کو ممبئی کی چھ پارلیمانی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے لیے ممبئی پولیس نے شہر میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور چار سو سے زائد افراد کو حفظ ما تقدم کے طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

گزشتہ برس ہونے والے ممبئی حملوں کے پیش نظر اس مرتبہ پارلیمانی الیکشن کے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے جگہ جگہ ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ بیٹ مارشل اور پولیس کی گاڑیاں شہر میں گشت کر رہی ہے۔

مقامی پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ ریاستی ریزرو پولیس فورس، مرکزی ریزرو فورس کی تین کمپنیاں، سرحدی حفاظتی دستوں کی پانچ کمپنیاں، ہوم گارڈز اور کے علاوہ ممبئی کرائم برانچ اور انسداد دہشت گردی عملہ کے اہلکاروں کو الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر ( نظم و نسق ) کے ایل پرساد کےمطابق ممبئی حملوں کے بعد سے ممبئی میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور سریع الحرکت فورس اور ریاستی پولیس فورس کے دستے اسی وقت سے ممبئی میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق شہر پر حملوں کے بعد یہ پہلے الیکشن ہیں اس لیے پولیس کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔

جوائنٹ کمشنر پرساد کے مطابق پولیس اور حکومت شہر میں پرامن الیکشن کے لیے ہر طرح کی کوششوں میں مصروف ہے۔شہر میں جتنے بھی حساس پولنگ بوتھ ہیں وہاں پولیس فورس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ممبئی کے مضافاتی علاقے کافی حساس ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق آٹھ ہزار پولنگ بوتھ میں سے ایک سو ساٹھ سے زیادہ بوتھوں کو حساس قرار دیا گیا ہے جس میں سے ساٹھ انتہائی حساس ہیں۔

تیس اپریل کو ممبئی کے چھ پارلیمانی حلقوں کے باون لاکھ چھیاسی ہزار ایک سو دس اور تھانے کے چار پارلیمانی حلقے کے چونتیس لاکھ بیالیس ہزار چار سو انیس ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔