گجرات فساد، ’فاسٹ ٹریک‘ عدالتیں

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنگجرات فسادات میں دو ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے

بھارت کی سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کی سماعت پر حکم امتناعی کو ختم کرتے ہوئے اس معاملے کی سماعت کا حکم دیا ہے اور کہاہے کہ اس معاملے کی تیز رفتار سماعت کے لیے چھ خصوصی ’فاسٹ ٹریک‘ یا فوری سماعت کی عدالتوں کے قیام کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس معاملے کےگواہوں کو کسی بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔

جسٹس ارجیت پسائیت اور اشوک کمار گنگولی پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے کہا ہے کہ فسادات کے سات برس بیت چکے ہیں اس لیے اس معاملے کی سماعت ہر روز ہونی چاہیے۔ تاہم عدالت نے ان مقدمات کی سماعت گجرات سے باہر کرانے والی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اس معاملے کی خصوصی تفتیشی ٹیم ( ایس آئی ٹی) کی سفارشات کی بنیاد پر کیا ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں احمد آباد، آنند، سابرکانتا، میہسانہ اور گلبرگ ضلع میں ہوئے فسادات کی سماعت ہوگی۔ ان علاقوں میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے لوگ مارے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس معاملات مقدمے کے لیے اچھے سرکاری وکیل کو مقرر کرے۔ تاہم عدالت نے ایس آئی ٹی کم اس کی نگرانی کا حکم دیا ہے اور وہ اس بات کی مجاز ہوگی کہ وکیل کی تعیناتی میں حکومت کو مشورہ دے سکے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفسادات میں کروڑوں کی املاک تباہ ہوگئی تھی

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایس آئی ٹی اور اس کے چیئرمین ان مقدامات کی سماعت کی نگرانی کرتے رہیں اور وقتاً فوقتاً عدالت کو اس کی پیش رفت کے متعلق آگاہ بھی کرتے رہیں۔ ایس آئی ٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اگر اس معاملے میں کسی کی ضمانت کو وہ اگرضروری سمجھتی ہو تو منسوخ کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے مارچ دو ہزار آٹھ میں گودھرا ٹرین سانحہ اور اس کے بعد ہوئے فسادات کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اس ٹیم کے چیئرمین آر کے راگھون نے عدالت کے احکامات پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ’ایس آئی ٹی کی کوشش ہوگی کہ سماعت جلدی کی جائے۔‘

دو ہزار تین میں قومی انسانی حقوق کے کمیشن اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے سپریم کورٹ سے فسادات کی سی بی آئی سی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسے مقدمات کی سماعت ریاست گجرات سے باہر کی جائے۔

لیکن سپریم کورٹ نے سی بی آئی سے تفتیش کے بجائے اس کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی اور اس کی رپورٹ آنے تک مقدمے کی سماعت روک دی تھی۔