نئی سرکار 22 مئی کو حلف اٹھائے گی

منموہن سنگھ نے بتایا کہ انتخابات سے قبل ہوئے اتحاد کو ملا کر ان کے پاس دو سو چوہتر اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
،تصویر کا کیپشنمنموہن سنگھ نے بتایا کہ انتخابات سے قبل ہوئے اتحاد کو ملا کر ان کے پاس دو سو چوہتر اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
    • مصنف, نادیہ پرویز
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان میں کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند محاذ کی حکومت بائيس مئی کو حلف لے گي۔

بدھ کو متحدہ ترقی پسند محاذ کی چیئر پرسن سونیا گاندھی اور محاذ کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ڈاکٹر منموہن سنگھ نے صدر پرتیبھا پاٹل سے شام پانچ بجے ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا۔

تقریبا دس منٹ کی اس ملاقات کے بعد راشٹر پتی بھون سے باہر آکر صحافیوں کو بتایا کہ بطور چیر پرسن انہوں نے صدر جمہوریہ کا ایک خط سونپا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے رہنما اور حکومت کے سربراہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہوں گے۔

اس کے بعد صدر کی جانب سے ملے خط کو پڑھتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بتایا کہ صدر نے نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے لیے بائیس مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

منموہن سنگھ نے بتایا کہ انتخابات سے قبل ہوئے اتحاد کو ملا کر ان کے پاس دو سو چوہتر اراکین کی حمایت حاصل ہے اور اس کے علاوہ ان کے پاس سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کی حمایت حاصل ہے اور اس طرح کل 322 اراکین کی حمایت انہيں حاصل ہے۔

حال ہی میں ہوئے عام انتخابات ميں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آئی تھی جس میں لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے دو سو چھ کانگریس کو حاصل ہوئی تھیں۔

وہیں بھارتیہ جنتاپارٹی کو 116 ارن بائيں محاذ صرف 24 سیٹیں ہی حاصل ہوئی ہیں۔

ہندوستان کے آئین کے مطابق حکومت سازی کے لیے کم از کم 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس پارٹی نے منموہن سنگھ کو متفقہ طور پر پارلیمانی پارٹی کا لیڈر منتخب کر کے انہیں دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے لیے نامزد کر دیا ہے۔ منگل کے روز پارٹی کی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں سونیا گاندھی کو پارلیمانی پارٹی کا چیئر پرسن منتخب کیا گيا تھا۔