انڈیا: پنجاب میں سکھوں میں تصادم

سکھ
،تصویر کا کیپشناحتجاج کے دوران ٹرین کے ڈبوں کو بھی آگ لگا دی گئی اور دوسری گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا
    • مصنف, ہرتوش بل
    • عہدہ, سینئر صحافی، پنجا- چندی گڑھ

آسٹریا کے ایک گردوارے میں گرنتھیوں پر حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا اور پیر کی صبح سے ہندوستان کی ریاست پنجاب میں اس واقعہ کے خلاف پر تشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔

وینا ميں ہوئے تشدد کے خلاف مظاہرے کرنے والے شہروں میں پنجاب کا دؤیبا علاقہ بھی شامل تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو بیرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔

انیس سو پچیس میں منگو رام نامی ایک شخص کیلیفورنیا سے واپس آيا۔ کیلیفورنیا میں اس شخص کے باغی غدر پارٹی کے کئی رہنماؤں سے تعلقات رہے۔ وہ ان رہنماؤں کے تمام نظریوں کو اپنے ذہن میں سمیٹ کر واپس آیا لیکن اس نے مختلف راستہ اختیار کیا اور کھال کا کام کرنے والوں (دلت برادری) کے ساتھ مل کر اس نے اٹھ دھرمی مہم کی بنیاد ڈالی ۔

ڈیرا سچ کھنڈ کے حامی اسی اٹھ دھرمی مہم کو مانتے ہیں۔ اتوار کو اسی ڈیرا سچ کے سربراہ پر ہی حملہ کیا گیا تھا۔

آزادی کے بعد بھی دوئبا سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا ہے اس علاقے کے لوگ وینکؤور، لندن ، اور سن فرانسسکو جیسے شہروں ميں جاتے رہے۔

آزادی سے پہلے جب لوگ بیرونی ممالک جایا کرتے تھے تو وہاں سے نئی اور ترقی پسند سوچ آتی تھی جیسا کہ منگو رام کے ساتھ آئی تھی۔ لیکن آزادی کے بعد باہر رہنے والی سکھ برادری بنیاد پرستی کی طرف بڑھنے لگی۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جو لوگ ہندوستان کو چھوڑ کر بیرونی ممالک گئے وہ وہاں جاکر یہ بھول گئے کہ ہندوستان اور پنجاب ساٹھ اور ستر کی دہائی کے شدت پسندی والے دور سے کافی آگے نکل چکا ہے اور بیرنی ممالک میں رہنے والے لوگ مزيد بنیاد پرستی کی طرف بڑھتے رہے۔

یہاں تک کہ خود پنجاب میں بھی بنیاد پرست سکھوں اور مقبول ڈیراؤں کے درمیان گاہے گاہے اختلافات ہوتے رہے جس کی وجہ سے پنجاب میں شدت پسندی کا آغاز ہوا۔

اسی قسم کے واقعات نے بھنڈرا والے کی مقبولیت میں اضافہ کیا اور حال ہی ہوئے ڈیرا سچا سودا کا واقعہ بھی انہیں اختلافات کا نتیجہ تھا۔

جو لوگ ڈیراؤں سے متاثر ہوتے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق اس برداری سے ہوتا ہے جنہیں پنجاب کا سماج کھڈے لگا دیتا ہے۔ ان میں اٹھ دھرمی جیسے دلت اور غریب کاشتکار شامل ہیں۔

ان لوگوں کی تعداد جمہوریت میں ایس جی پی سی (شرومنی گردوارا پربندھک کمیٹی) جیسی سکھوں کی سب بڑی تنظیم کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اسی تنظیم کے سبب بنیاد پرست سکھوں اور ڈیراؤں کے درمیان خلیج ہے۔

سکھ
،تصویر کا کیپشنڈیرا سچ کھنڈ کے حامی اٹھ دھرمی مہم کو مانتے ہیں اور اتوار کو اسی کے ڈیرا سچ کے سربراہ پر حملہ کیا گیا تھا

جب اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں جیسے کہ وینا میں پیش آیا تو اس کا اثر ہندوستان کے پنجاب میں رونما ہوتا ہے لیکن ایک بنیادی فرق ہے کہ جہاں ایک طرف بیرون ملک رہنے والے لوگ بنیاد پرستی میں الجھے ہوئے ہیں وہیں پنجاب کافی آگے نکل چکا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعات ہوئے وہاں فوج طلب کر لی گئی، ایس جی پی سی نے اس واقعہ کی تنقید کی اور اکالی دل نے اس سے کنارا کشی اختیار کر لی۔

لیکن اس واقعہ کے اثرات صرف چند دن ہی باقی رہيں گے یہ سچ ہے کہ دلتوں اور جاٹوں میں اختلافات ہیں لیکن پنجاب کو اس بات کا احساس ہے کہ اس واقعے کو طول پکڑنے نہیں دیا جا سکتا۔

یہ مسئلہ تو ٹھنڈا ہو جائے گا لیکن بیرون ملک میں رہنے والوں کی بنیاد پرستی پنجاب کےلیے مسائل پیدا کرتی رہے گی۔