ممبئی حملے کے چھ مہینے ہو گئے اور۔۔۔

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ممبئی پر حملوں کو چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی ہندوستان نہ تو کوئی واضح 'اینٹی ٹیرر' پالیسی وضع کر سکا ہے اور نہ ہی اس کے سکیورٹی کے نظام میں کوئی گراں قدر بہتری آئی ہے۔
تجزیہ نگار کوموڈور ادے بھاسکر کہتے ہیں کہ حملوں کے وقت یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ہندوستان کے پاس اس طرح کے حملے روکنے کے لیے نہ تو کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی صلاحیت۔
' زمین پر سچائی یہ ہی ہے کہ چھ مہینے بعد بھی ہندوستان کے پاس ایسی پالیسی یا صلاحیت نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ مستقبل میں ہم دہشت گردوں کا حملہ روک پائیں گے۔'
چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو جب شدت پسندوں نے ممبئی میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا تو حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کے رد عمل سے یہ تاثر ملا کہ اس نوعیت کا حملہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ شدید تنقید اور دو سرکردہ سیاست دانوں کے استعفوں کے بعد حکومت نے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے نظام میں بنادی تبدیلیوں کا وعدہ کیا تھا۔
ممبئی حملوں سے سبق

ممبئی میں حملہ آورں پر قابو پانے میں نیشنل سکیورٹی گارڈ یا این ایس جی کے کمانڈوز نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت جے کے دت این ایس جی کے سربراہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں نے ان حملوں سے کئی اہم سبق سیکھے۔ 'سب سے پہلا سبق تو یہ کہ ہمارا انٹیلی جنس نیٹورک اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ جب ہمیں کوئی معلومات ملے، تو ہم موثر انداز میں اس پر کارروائی کر سکیں۔۔۔ بظاہر ہمارے پاس کچھ پیشگی معلومات تھی، حملہ آوروں کی کشتی کی تلاشی بھی لی گئی لیکن ہم یہ حملے روک نہیں سکے۔'
دت کے مطابق بہتر انٹیلی جنس کے علاوہ، عوام بیداری، مقامی پولیس کو بہتر تربیت، سپیشل فورسز کا قیام اور فورسز کو جدید ترین اسلحہ کی فراہمی کی بھی اشد ضرورت ہے۔
لیکن دت اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ حکومت نے جو وعدے کیے تھے ان پر عمل نہیں ہوا ہے۔
'پچھلے چھ مہیوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ کئی ریاستوں میں سپیشل فورس بنائی جارہی ہے، پولیس کو نئی گاڑیاں مل رہی ہیں، جدیدترین اسلحہ اور ساز وسامان آرہا ہے، این ایس جی کے نئے مرکز بنائے جارہے ہیں، انٹیلی جنس کا نظام زیادہ موثر بنایا جارہا ہے، تربیت کے نئے طریقے اختیار کیے جارہے ہیں اور جو اسامیاں خالی ہیں انہیں پر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سب کے باوجود کسی تازہ حملے کو روکنے یا حملہ ہو جانے کی صورت میں اس سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے؟
اندرون ملک خفیہ معلومات کے سرکردہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ ارون بھگت کا خیال ہے کہ دلی ممبئی جیسے بڑے شہروں میں تو حالات بہتر ہوئے ہیں۔
'لیکن اگر کسی چھوٹے شہر میں کمانڈو کی طرز کا حملہ ہوتا ہے تو میرے خیال میں وہاں موثر انداز میں جوابی کارروائی نہیں کی جاسکے گی۔'
ادے بھاسکر کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں سکیورٹی کے پورے نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے چاہے بیرونی سکیورٹی ہو یا اندرونی۔
' اس کے لیے کچھ بہت اچھی اور سخت تجاویز موجود ہیں۔ اگر کارگل کی جنگ کے بعد مختلف کمیٹیوں نے جو سفارشات دی تھیں، ان پر بھی عمل ہوجائے تو ہندوستان کے لیے بہت اچھا قدم ہوگا۔'
خطرہ کس سے ہے

لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں ہندوستان کو سب سے زیادہ خطرہ کس سے لاحق ہے؟
دے بھاسکر کہتے ہیں کہ' پاکستان کے اندر جتنے بھی جہادی گروپ ہیں، انہیں پاکستان کا سٹیبلشمنٹ ایک فوجی اثاثہ تصور کرتا ہے، شاید اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی میں اتنا وقت لگا ہے۔ جب تک اس سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی، ہندوستان کے لیے خطرہ پاکستان کی طرف سے ہی رہے گا۔' جے کے دت کا بھی خیال ہے کہ ممبئی جیسا حملہ دوبارہ ہوسکتا ہے خرہ پاکستان سے ہی ہے۔
لیکن دت اس تاثر کو غلط بتاتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے بعد سے حکومت کی تمام توجہ پاکستان پر مرکوز ہے جبکہ خطرہ ملک کے اندر بھی موجود ہے۔
'یہ کہنا غلط ہے کہ ہماری تمام توجہ اب سرحد پار ہے۔ جب خطرے سے نمٹنا ہوتو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ خطرہ اندر سے ہے یا باہر سے، ہاں یہ ضرور ہے کہ شدت میں کمی یا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔'
ارون بھگت کہتے ہیں کہ طالبان کی حالیہ سرگرمیوں کا ایک فائدہ بھی ہوا ہے۔
'یہ لوگ اب بے نقاب ہوگئے ہیں، یہ ایسے راکشس ہیں جو کسی کونہیں چھوڑیں گے۔ بہت سے لوگ ان کے نظریہ اسلام سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ ایسے میں ہندوستان کے اندر انہیں حمایت ملنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوجائے گا۔'
لیکن تجزیہ نگاروں میں ایک بات پر اتفاق ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جو بھی پالیسی وضع کی جائے، سکیورٹی اس کا صرف ایک پہلو ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی برابر اہمیت دینیے کی ضرورت ہے۔





















