پنجاب:حالات معمول پر

ہندوستانی پنجاب کے کئی شہروں میں دو دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد اب حالات معمول پر آرہے ہیں اور بدھ کی صبح کئی مقامات پر کرفیو میں نرمی کی گئی ہے۔
لدھیانہ، پھگواڑہ، ہوشیار پور اور جالندھر میں کرفیو میں نرمی کی گئی ہے اور حفاظتی دستوں نے کڑی نگرانی رکھی ہوئی ہے۔
پیر کو مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے جالندھر میں پولیس کو گولی چلانی پڑی تھی جس میں تین افراد کی موت ہوگئی تھی۔
پنجاب میں کشیدگی کے سبب جموں میں دو دنوں سے پھنسے مسافروں کے لیے خصوصی ٹرینیں چلی گئی ہیں۔ منگل کو بعض معمولی واقعات کو چھوڑکر ریاست کے بیشتر مقامات پر حالات پرامن ہیں اور رفتہ رفتہ حالات معمول پر آرہے ہیں۔
آسٹریلیا کے دارلحکومت ویانہ کے ایک گرودوارے ميں اتوار کو ڈیرا سچ کھنڈ کے رہنما نرنجن داس اور ان کے اسسٹنٹ رامانند پر حملے کے بعد پنجاب میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے اور چار مقامات پر کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا۔
اس حملے میں ڈیرے کے نائب رامانند کی موت ہوگئی ہے اور نرنجن داس شدید طور پر زخمی ہیں۔ اس حملے میں سولہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ڈیڑا سچ کھنڈ پنجاب میں دلت اور پسماندہ ذاتوں کے لوگوں کے سب سے بڑے ڈیرے کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ؛ہ سکھ مذہب کا ایک مسلک ہے۔
حالانکہ اس مسلک کو ماننے والے ہریانہ، دلی اور ہماچل پردیش میں بھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیڑے کا پورا نام سنت روی سرونداس ڈیرا سچ کھنڈ- رائے پور بلا ہے اور اس کے پیشوا سنت نرنجن داس ہیں۔
منگل کو بی بی سی کی جموں میں نامہ نگار بینو جوشی نے بتایا کہ ہندوستان کے زير انتظام جموں کشمیر کے جموں خطے سے شروع ہونے والی 16 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
ریلوے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینیں پنجاب ہو کر جاتیں ہیں اور وہاں مظاہرین نے ریل راستے کو روک رکھا تھا۔
ادھر پنجاب کی؛انتظامیہ نے چاروں اضلاع جالندھر ، پھگواڑا ، ہوشیار پور اور لدھیانہ میں کرفیو لگا دیا تھا اور تین مقامات پر فوج کو پولیس کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
جالندھر سمیت آس پاس کے سبھی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کرفیو کے دوارن نرمی برتے جانے پر پنجاب حکومت کی نکتہ چینی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔
صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا " پنجاب ميں حالات معمول پر نہيں آئے ہیں، ریاستی حکومت نے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کیا ہے لیکن ميں ٹی وی پر دیکھ رہا ہوں کہ کرفیو کا کوئی اثر نہیں ہے۔"
وزير اعظم منموہن سنگھ نے بھی پنجاب کے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے لوگوں سے امن کی اپیل کی تھی۔ وزير خارجہ ایس ایم کرشنا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہندوستان کی حکومت آسٹریا کے اعلی اہلکاروں اور وہاں کے سفارت خانے سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔





















