افراط زر کی شرحوں میں ریکارڈ گراوٹ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافراط زر کی شرحوں میں کمی کے باوجود عام اشیاء کی قیمتیں مہنگی ہیں

ہندوستان میں افراط زر کی شرح مائنس ایک اعشاریہ چھ ایک ہوگئی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ بھارت میں قیمتوں کی شرح منفی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

لیکن روز مرہ کی چیزیں جیسے غذائی اشیاء، پھل اور سبزیاں گزشتہ برس کے مقابلے اب بھی زیادہ مہنگی ہیں۔

چھ جون تک کے ریکارڈ کے مطابق ہول سول قیمتوں کا انڈیکس دوسو بتیس اعشاریہ سات تک گر گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ برس اسی ہفتے میں یہ انڈیکس دوسو چھتیس اعشاریہ پانچ تھا۔

ہول سول قیمتوں کی شرح میں اضافہ تو نہیں ہوا ہے لیکن روز مرّہ کی جن اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں ان میں گراوٹ نہیں آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام اشیاء کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں اب بھی آٹھ اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق پالیسی میکر اور مارکیٹ کو مندی کے سبب منفی شرح افراط زر کا پہلے ہی سے امکان تھا۔ ان کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ وقت کی مناسبت سے اشیاء کی قیمتوں اضافہ یا کمی ہوتی رہتی ہے۔

افراط زر کی شرحوں میں کمی سے ممبئی شیئر بازار میں اچھال آیا ہے اور تقریبا دو سو پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرحوں میں کمی سے مالیاتی پالیسی مثبت تبدیلیا ہوں گی۔ امکان ہے کہ بینک قرض کے لین دین میں اپنی پالیسی میں آسانیاں پیدا کریں گے۔