دلی میٹرو ایک اور حادثہ، چار زخمی

دلی میٹرو ریل کے سربراہ کا استعفی نامنظور کیے جانے کے صرف ایک روز بعد اسی مقام پر ایک تازہ حادثے میں مزید چار افراد زخمی ہوگئے ہیں جہاں اتوار کوایک انجینئر اور پانچ مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔
تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین بھاری کرینیں جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹا رہی تھیں۔ تینوں کرینیں ایک ساتھ سٹیل کا ایک انہتائی بھاری ’لانچر‘ ہٹانے کی کوشش کر رہی تھیں کہ پلٹ گئیں۔ یہ لانچر پلرز کے اوپر پہلے سے تیارشدہ سیمنٹ کانکریٹ کی بیم نصب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ پیر کے حادثے کے بعد جو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کی حالت کیسی ہے۔
اتوار کو اس حادثے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دلی میٹرو پروجیکٹ کے چیف آئی سریدھرن نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن دلی کی وزیر اعلٰی شیلا دیکشت نے اسے نامنظور کر دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مسٹر سریدھرن بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔
اتوا کے حادثے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔شہری ترقی کے وزیر جے پال ریڈی نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ دس روز کے اندر پیش کردے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں دلی میٹرو ریل پراجیکٹ کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے اور کمپنی پر جلد بازی سے کام لینے کے الزامات درست نہیں۔
مسٹر ریڈی کی جانب سے یہ بیان ان الزامات کے بعد آیا ہے کہ دلی میں دو ہزار دس ميں دولت مشترکہ کھیلوں سے قبل میٹرو ریل کا کام مکمل کرنے کی کوشش میں حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
دلی میں میٹرو ریل کہیں زمین کے نیچے چلتی ہے تو کہیں سڑکوں کے بیچ میں تعمیر کیے جانے والے پلوں پر۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں آئی سریدھنر نے کہا تھا کہ ’میں پچھلے دس برس سے اس پروجکٹ کا چیف رہا ہوں۔ باضابطہ طور پر میرا اس حادثے سے کوئی لینا دینا نہيں ہے لیکن میں نے اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنا استعفی وزیر اعلی کو بھیج دیا ہے۔ مجھے اس حادثے سے کافی تکلیف ہوئی ہے‘۔
سریدھرن کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
حادثے کے سبب کام میں کم از کم تین مہینے کی تاخیر اور تقریبا چھ کروڑ روپے کانقصان ہو گا۔
یہ حادثہ اتوار کی صبح پانچ بجے جنوبی دلی کے لیڈی شری رام کالج کے سامنے پیش آیا ہے۔ اس انتہائی مصروف سڑکے کے دوسرے طرف ایک بڑا سکول ہے۔
حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے دلی کی وزیر اعلٰی شیلا ڈکشت نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔





















