ریتابہوگنا عدالتی تحویل میں

ریتا جوشی بہوگنا
،تصویر کا کیپشنریتا بہوگنا جوشی کو دیر رات میں گرفتار کیا گیا تھا اور اب وہ چودہ دن کے لیے عدالتی تحویل میں ہیں

ہندوستان میں ریاست اترپردیش کی وزیراعلیٰ مایاوتی کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز بیان دینے کے الزام میں کانگریس کی لیڈر ریتا بہوگنا جوشی کو چودہ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔

اس معاملے پر ہندوستان کی پارلیمان میں بھی زبردست ہنگامہ ہوا جس کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس کی رہنما ریتا بہوگنا نے بدھ کے روز مرادآباد میں خواتین کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب کسی دلت خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے تو پولیس سربراہ ہیلی کاپٹر سے اس کے پاس جاتے ہیں اور متاثرہ شخص کو پچیس ہزار روپے دیتے ہیں جبکہ ان کے ہیلی کاپٹر پر سات لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ اسی خطاب میں انہوں نے وزیر اعلی مایا وتی کے خلاف بعض نازیبا کلمات کہے تھے۔

یوپی میں کانگریس پارٹی کی صدر ریتا بہوگنا جوشی کو رات میں غازی آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ علاقے کے پولیس سربراہ اکھل کمار کا کہنا ہے کہ انہیں مرادآباد لے جایا گیا ۔ ان کے خلاف شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گيا ہے۔

گرفتاری کے بعد دیر رات کو لکھنؤ میں ریتا بہوگنا کے مکان کو نذر آتش کردیا گیا۔ بعض لوگوں نے ان گھر پہنچ کر توڑ پھوڑ کی۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ توڑ پھوڑ مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی کے کارکنان نے کی ہے۔

آگ لگنے سے مکان کو کافی نقصان پہنچا ہے اور تقریباً تمام سامان جل کر خاک ہوگیا ہے۔ باہر کھڑی کار بھی جل گئی ہے۔ لکھنؤ میں ریتا بہوگنا کا مکان وزیراعلی مایا وتی کے مکان کے پاس ہی اور وہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ لیکن پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی اور وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کانگریس کے ریاستی اور مرکزی رہنماؤں نے مکان میں آگ لگانے اور محترمہ جوشی کی گرفتاری کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب ریاستی حکومت کے ایماء پر کیا گیا ہے۔

ادھر دلی میں بہوجن سماج پارٹی کے رہنما ستیش چندر مشرا نے کہا ہے کہ مایا وتی نے جس طرح کی زبان استعمال کی ہے اس کے لیے کانگریس پارٹی کو بھی ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔