مایاوتی کی نئی حکومت کو بلا شرط حمایت

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی نے مرکز میں کانگریس کی قیادت والے متحدہ ترقی پسند محاذ کی بلا شرط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ اس سلسلے میں جلدی ہی ایک خط صدر جمہوریہ پرتبھا پاٹل کو بھیجا جائے ا۔ لیکن بہوجن سماج پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔
انہوں نے لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ٹیلی فون پر ان سے بات کرتے ہوئے انہیں' اپنی چھوٹی بہن' بتایا اور 'سیکولر حکومت قائم کرنے میں مدد کی درخواست کی۔'
لیکن کانگریس کی جانب سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا مایاوتی سے حمایت کی باقاعدہ درخواست کی گئی تھی یا نہیں۔
مایاوتی نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیا ہے حالانکہ انہیں اس بات کا پورا علم ہے کہ یو پی اے حکومت اتر پردیش کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرے گی۔
نئی لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی کو اکیس سیٹیں ملی ہیں اور پارٹی کی حمایت سے یو پی اے کو ایوان میں تقریباً دو سو پچاسی ارکان کی حمایت حاصل ہوجائے گی۔
من موہن سنگھ نے اگر مایاوتی سے حمایت کی باقاعدہ درخواست کی ہے تو یہ کافی دلچسپ ہے کیونکہ انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہی سماجوادی پارٹی حکمراں اتحاد میں واپس آنےکی کوشش کر رہی تھی۔
سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے تعلقات سیٹوں کی تقسیم پر اختلافات کی وجہ سے خراب ہوگئے تھے جس کے بعد کانگریس نے ریاست میں تنہا ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
کانگریس نے بھی اکیس سیٹیں جیتیں جو تقریبا دو دہائیوں میں اس کی بہترین کارکردگی تھی۔ اب پارٹی کے اندر اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ سماجوادی پارٹی سے دوبارہ کوئی تعلق رکھا جائے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماجوادی پارٹی نہ صرف حمایت دینے بلکہ حکومت میں بھی شامل ہونے کی خواہشمند ہے۔ پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اور امر سنگھ نے اتوار کو وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی تھی لیکن انہیں کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔ لیکن اس کے باوجود اطلاعات یہ ہیں کہ امر سنگھ صدر جمہوریہ کو کانگریس کی حمایت میں ایک خط دینے والے ہیں۔
مایاوتی اور ملائم سنگھ دونوں ہی کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی تفتیش جاری ہے جس کی وجہ سے وہ بظاہر مرکزی حکومت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
مایاوتی سے حمایت لیکر کانگریس نے شاید اپنے ان اتحادیوں کو بھی ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے جنہوں نے الیکشن سے پہلے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں یوں تو ابھی تین سال باقی ہیں لیکن ریاست میں آئندہ دو برسوں میں پنچایت اور نگر نگم ( مئیر) کے انتخابات ہونے ہیں۔



















