بھارت کے چندریان تجربے کو دھچکا

ہندوستان کے خلائی ادارے’اسرو‘ کے مطابق چاند پر بھیجے گئے پہلے بھارتی خلائی جہاز چندریان میں تکنیکی خرابی آگئی ہے۔
کسی خلانورد کے بغیر پرواز کرنے والے خلائی جہاز چندریان میں خرابی آنے کی وجہ سے بھارت کے چاند مشن کو دھچکا لگا ہے۔
چندریان کو راستہ دکھانے والے نظام میں تکنیکی خرابی آگئی ہے جس کی وجہ سے یہ چاند کی اردگرداس مدار میں گردش نہیں کر پارہا جہاں اسے کرنا تھی۔
گزشتہ برس اکتوبر میں خلا میں چھوڑے گئے اس مشن پر اسی ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور اس کے ذریعے چاند کی سطح پر موجود معدنیات، کیمیکل اور زمین کی سطع کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔
اسرو کے ترجمان ایس ستیش نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تکنیکی خرابی کے باجود مشن محفوظ ہے لیکن اس کے لائف سپین یعنی جس مدت کے لیے بھیجا اس پر اثر پڑ سکتا ہے‘۔
اسرو کے چیئرمین جی مادھون نارائن نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چندریان میں تکنیکی خرابی آگئی ہے۔
مادھون نارائن کا کہنا ہے کہ چندریان نے اپنا ابتدائی کام پورا کرلیا ہےاور ابھی وہ معلومات بھیج رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چندریان سے بھیجی گئی تصویروں سے اہم معلومات ملی ہیں لیکن تکنیکی خرابی کی وجہ سے تصویروں کامعیار متاثر ہوا ہے۔
تمل ناڈو کے نزدیک اور آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع شری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز سے چندریان کو 22 اکتوبر 2008 کو روانہ کیا گیا تھا۔ مشن کے لانچ کے وقت سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ چندریان -1 چاند کی سطح سے سو کلومیٹراوپر معلق رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستانی سائنسدانوں کے مطابق یہ مشن خلائی تحقیق میں ایک اہم قدم ہے۔
اس مشن کے لیے یوروپی خلائی ایجنسی اور امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) سے اشتراک کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔







