ایڈز: ہورڈنگز ہٹانے کے احکامات جاری

- مصنف, صلاح الدین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،دلی
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ ایڈز مخالف مہم کے لیے اس نے جو ہورڈنگز لگائی ہیں وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر ہٹا دی جائیں۔
ایڈز مخالف مہم کے لیے اشتہارات میں حکومت نے جس خاتون اور اس کی بچی کی تصویر استعمال کی ہے ان کی اپیل پر سماعت کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
ایڈز مخالف مہم کے لیے حکومت نے جو نئی ہورڈنگز اور پوسٹرز لگائے ہیں اس میں جس خاتون کی تصویر استعمال کی گئی ہے وہ ایڈز سے متاثر نہیں ہیں لیکن سماج میں ان کے خلاف امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے وکیل موہن کرشنن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ خاتون '' تلکا وتی'' اور ان کی بیٹی کی تصویر بغیر ان کی اجازت کے استعمال کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تلکاوتی نے جون میں سوسائٹی کو اپنی تصویر استعمال نا کرنے کے لیے ایک نوٹس دیا تھا لیکن سوسائٹی نے ان کی بات نہیں سنی اس لیے عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ موہن کرشنن نے بی بی سی کو بتایا '' خاتون کو کافی ذہنی تناؤ سے گزرنا پڑا ہے، اس کے رشتہ دار، پڑوسی اور مکان مالک سب کے سب سمجھتے ہیں کہ وہ ایڈز میں مبتلا ہیں۔

اب گلی کے دوسرے لڑکے بچی کے ساتھ کھیلنا بند کر چکے ہیں اور کافی پریشانیوں کے بعد عدالت میں اپیل کی تھی۔ آخر بغیر اجازت وہ کسی کی تصویر کو کیسے استعمال کرسکتے ہیں۔'' موہن کرشنن کے مطابق خاتون نے عدالت میں ایک کروڑ ہرجانے کی اپیل دائر کی ہے لیکن عدالت نے ابھی عارضی فیصلے میں پوسٹرز اور بینرز ہٹانے کا حکم دیا ہے اور اصل مسئلے پر بات اگلی سماعت میں ہوگی۔ مدارس کے مختلف ہسپتالوں اور عوامی جگہوں پر ایڈز مخالف مہم کے لیے جو ہورڈنگز اور پوسٹرز ہیں ان سب میں متعلقہ خاتون اور ان کی چار سالہ بیٹی کی تصویر نظر آتی ہے۔ وکیل کے مطابق جس سوسائٹی نے ایڈز مخالف مہم کے لیے تصویریں استعمال کی ہیں اس کا کہنا ہے کہ اسے وہ تصویریں ایک پرائیویٹ ایڈ ایجنسی نے سونپی تھیں۔ موہن کرشنن کا کہنا تھا کہ خاتون کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ آخر ان کی وہ تصویر کب لی گئی تھی۔


















