کشمیر: منموہن کے بیان پر ہڑتال کی کال

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارتی وزیراعظم کی طرف سے علیٰحدگی پسندانہ خیالات کو غیر ضروری قرار دینے پر وادی میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے جبکہ منموہن سنگھ کے ان ریمارکس پر حریت رہنماؤں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
پندرہ اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے دلّی کے لال قلعہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ انتخابات کے بعد ملک میں علیٰحدگی پسندانہ خیالات کی گنجائش نہیں رہی اور یہ کہ علیٰحدگی پسند طبقہ اب ’ار ریلیونٹ‘ یعنی غیر متعلق یا غیر ضروری ہوگیا ہے
بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر بھی وادی بھر میں حسب روایت ہڑتال تھی اور منموہن کے ان ریمارکس پر نظربند رہنما سید علی گیلانی کی سربراہی والے حریت دھڑے نے آئیندہ سنیچر کو ایک اور ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
معنی خیز بات ہے کہ ہند نواز اپوزیشن رہنما اور بھارت کے واحد مسلم وزیرِ خارجہ بننے والے سیاستدان مفتی محمد سعید نے بھی منموہن کے بیان پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کے پرامن اور کامیاب انعقاد کو مسئلہ (کشمیر) کا خاتمہ قرار دینا ایک خطرناک سوچ ہے‘۔ ادھر میر واعظ گروپ کے قائمقام سربراہ پروفیسر عبدالغنی بٹ کہتے ہیں کہ ’منموہن سنگھ اپوزیشن کی طرف سے دباؤ میں ہیں۔ شرم الشیخ کا دباؤ کم کرنے کے لیے ایسا بیان دیا گیا ہے‘۔
سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں میں بھی اس بارے میں ملا جُلا ردعمل پایا جارہا ہے۔ بعض حلقے منموہن اور حریت دونوں کی یہ کہہ کر نُکتہ چینی کررہے ہیں کہ کشمیر میں الیکشن پہلی بار نہیں ہوئے بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے ہو رہے ہیں۔ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین کا کہنا ہے کہ ’اب بھی بدامنی اور امن کے بیچ بہت کم فاصلہ ہے۔ الیکشن ہوتے رہے ہیں ، ان سے کشمیر کی اصل صورتحال پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔
منموہن کی تقریر پر دانشور حلقوں اور اخباری اداریوں میں بھی خوب بحث ہورہی ہے۔ اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ حُریت کانفرنس نے الیکشن سے متعلق کمزور مؤقف اختیار کررکھا ہے۔
دیرینہ سیاسی کارکن ڈاکڑ مبارک احمد کے مطابق اگر منموہن نے یہ کہا کہ الیکشن سے علیٰحدگی پسند الگ تھلگ پڑ گئے ہیں تو اس کا جواز خود حُریت کانفرنس نے فراہم کیا ہے۔ ڈاکڑ مبارک کہتے ہیں کہ ’اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ حریت والوں نے الیکشن کو گناہ کبیرہ قرار دے کر اس کے خلاف اتنا پروپیگنڈا ہے کہ الیکشن کا انعقاد خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ حریت والے غیر متعلق ہیں۔ انہیں الیکشن کے بارے میں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اگر معاملہ صرف الیکشن کا انعقاد ہے تو پھر منموہن سنگھ تکنیکی اعتبار سے صحیح کہہ رہے ہیں‘۔

















