کشمیر میں ہڑتال کی اپیل

سرینگر(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنپچھلے سال کشمیر میں لاکھوں لوگوں نے آزادی کے حق میں طویل مارچوں کا اہتمام کیا تھا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارتی زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں نے منگلوار کو مکمل ہڑتال کی کال دے دی ہے، جس کی مسلح شدت پسند گروپوں نے حمایت کی ہے۔ یہ ہڑتال پچھلے سال گیارہ اگست کو ایک جلوس پر فائرنگ کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے سینیئر علیٰحدگی پسند رہنما شیخ عبدالعزیز کی پہلی برسی کے موقع پر کی جارہی ہے۔

ستاون سالہ شیخ عبدالعزیز پچھلے سال شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ واردات کے وقت وہ ہزاروں لوگوں پر مشتمل جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔

جلوس جموں کی انتہاپسند تنظیموں کے ذریعہ کشمیریوں کی ناکہ بندی کے خلاف مظفرآباد کا راستہ کھولنے کے لیے کنٹرول لائن کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔ عینی شاہدین نے، جن میں سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ بھی ہیں، اُس وقت انکشاف کیا کہ جب جلوس آگے بڑھ رہا تھا تو فوج نے شیخ عزیز کو نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ لیکن ابھی تک پولیس یا فوج نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ہڑتال کی کال میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی میں حریت کانفرنس نے دی ہے۔ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’کہ لشکر طیبہ کے چیف قاری عبدالواحد کشمیری نے کہا ہے کہ گیارہ اگست کشمیر کی تحریک مزاحمت میں اہم دن ہے، لہٰذا اس دن ہڑتال کی جائے اور دنیا پر واضح کیا جائے کہ جب تک کشمیریوں کو کا حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا تحریک جاری رہے گی۔‘

ڈاکٹر غزنوی نے اپنے ٹیلی بیان میں گرفتار کیے گئے سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں کی گرتی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر ان کی رہائی کے لئے دباؤ ڈالے۔ غیر قانونی قرار دی گئی تنظیم جہاد کونسل نے بھی اس پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے حریت کانفرنس نے گیارہ اگست کو پچھلے سال برپا ہوئی تحریک کی سالگرہ منانے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو عوامی مظاہروں کی بجائے ہڑتال اور سمیناروں تک ہی محدود رکھا۔ بعض علیٰحدگی پسند حلقے اسے ’تعمیری حکمت عملی‘ کہتے ہیں۔

پچھلے سال اگست کی گیارہ، سولہ، اٹھارہ اور بائیس تاریخ کو کشمیر میں لاکھوں لوگوں نے آزادی کے حق میں طویل مارچوں کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے بعد جب علیٰحدگی پسندوں نے پچیس اگست کو لال چوک میں عوامی ریلی کا پروگرام بنایا تو حکام نے ان کا کریک ڈاؤن کیا اور وادی میں کرفیو نافذ کیا جو دو ماہ تک جاری رہا۔