’اگرگاندھی مذہب کو سیاست میں نہ لاتے۔۔۔‘

- مصنف, مشیر الحسن
- عہدہ, دلّی
پاکستان میں جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کے بارے میں رائے ایک جیسی ہے جبکہ ہندوستان میں محمد علی جناح کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے ہيں۔
ہندوستان میں آزادی کے فورا بعد سے آج تک جناح کے بارے میں اور مسلم لیگ تحریک کے بارے میں الگ الگ آرا موجود ہیں اور یہ ایک اہم بات ہے۔
جسونت سنگھ کی کتاب کے بعد جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے وہ اسی لیے ہوا کیونکہ گزشتہ باسٹھ برس میں لوگوں نے محمد علی جناح کے بارے میں الگ الگ رائے دی ہے۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان کی تاریخ میں ایسی کئی کتابیں آئی ہیں جس میں جناح کو مختلف روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی نے بھی جناح کی تعریف کرکے تنازعہ کھڑا کیا تھا اور اب ایک بار پھر ان کی پارٹی کے جسونت سنگھ کی کتاب پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔
ہندوستان کی آزادی کے فورا بعد مولانا آزاد کی کتاب آئی تھی، ’انڈیا وِنز فریڈم‘۔۔۔ اس میں مولانا آزاد کا نظریہ صاف نظر آتا ہے، اسی طرح سے جمعیت العماء ہند کے مولانا حسین احمد نے اپنی کتاب میں جناح کی ’ٹو نیشن تھیوری‘ کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے۔
دوسری طرف ہمیں ہندو نظریاتی تنظیمیوں جیسے آر۔ایس۔ایس کا نظریہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہندوستان میں آزاد خیالی کی جو روایت رہی ہے اور جو ابھی باقی ہے، اسی لیے ہمیں تاريخ کی کتابوں میں جناح کے بارے میں مختلف رائے ملتی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں جناح کا ڈیمنائزیشن ہوا ہے وہ غلط ہے، بلکہ بہت بار ایسی آوازیں ابھر کر آئی ہیں جب گاندھی کو غلط فیصلوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
ہندوستان کے ایک مورخ ایس کے مجومدار نے اپنی کتاب میں اس خیال کو اجاگر کیا ہے کہ اگر گاندھی مذہب کو سیاست میں نہ لاتے تو شاید ہندوستان میں وہ فرقہ پرستی نہ پھیلتی جو پھیلی ہے اور جناح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1920 میں ناگپور میں نان کاپریشن موؤمنٹ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ خدا کے واسطے سیاست میں مذہب کو نہ لائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ الگ بات ہے کہ جس جناح نے سیاست میں مذہب کی مخالفت کی انہوں نے ہی مذہب کی بنیاد پر ٹو نیشن تھیوری کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ یہ سب تو سیاست کا کھیل ہے۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جسونت سنگھ کی کتاب کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس سے ایک بار پھر جناح کے بارے میں دلچسپ بحث شروع ہوگئی ہے۔ حالانکہ میں جسونت سنگھ کی کتاب کے بہت سے پہلوؤں سے اتفاق نہیں کرتاہوں کیونکہ میں نہیں مانتا کے تقسیم ہند کے لیے جواہر لال نہرو ذمہ دار تھے۔
تاہم اس کتاب سے اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ تقسیم ہند کا موضوع منظر عام پر آگیا ہے۔ میرے خیال میں اس پر بحث ہونی چاہیے۔ تقسیم سے متعلق کئی سوالات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ جس ملک کی اتنی پرانی ثقافت رہی ہو وہ کیسے تقسیم ہوگیا اور پھر دوبارہ 1971 میں تقسیم ہو گیا؟ یہ ایسے سوال ہيں جو ہماری زندگی اور سیاست پر اثر ڈالتے ہيں۔
بحث و مباحثوں کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کو ایک دوسرے کو جاننے کا مزید موقع ملے گا۔






















