بی جے پی: ڈسپلن پر اصرار

اڈوانی اور راجناتھ (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشناڈوانی نے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلہ کو ’افسوس ناک لیکن ضروری’قرار دیا ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی نے دو پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار میں واپسی کے لیے کچھ 'عزائم' کا اعلان کیا ہے لیکن پارٹی کے'غور و فکر' اجلاس میں بانی پاکستان محمد علی جناح پر پارٹی رہنما جسونت سنگھ کی کتاب سے پیدا ہونے والا تنازع چھایا رہا۔

شملہ میں تین روزہ اجلاس کے اختتام پر پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈسپلن یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کسی قیمت برداشت نہیں کی جائے گی اور (جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالے جانے کے ساتھ ہی) یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے پارٹی کے احیا کے لیے نئی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا جس میں اندرونی اختلافات ختم کرنے کے لیے ڈسپلن کی ضرورت کے علاوہ پسماندہ طبقات، خواتین اور نوجوانوں کو پارٹی میں زیادہ نمائندگی دینے، اور پارٹی کے نظریات سادہ انداز میں لوگوں کو سمجھانے پر زور دیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران ایک خفیہ رپورٹ توجہ کا مرکز بنی رہی جس کے وجود سے ہی بی جے پی کی اعلی قیادت انکار کرتی رہی۔ پارٹی کے مطابق یہ چند نکات تھے جن پر غور و فکر کیا جانا تھا۔

لیکن اطلاعات کے مطابق یہ پارٹی کی شکست کا ایک خفیہ تجزیہ تھا جس میں لال کرشن اڈوانی، نریندر مودی، ارون جیٹلی اور ورون گاندھی کو بالواسطہ طور پر سخت تنقید کی نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کو نشانہ بنائے جانے اور لال کرشن اڈوانی کو ایک مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کیے جانے، اور اسی دوران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر مودی کا نام لیے جانے سے پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔

اس سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سینئر رہنما سشما سوراج نے اجلاس سے لال کرشن اڈوانی کی تقریر کی تفصلات بتائیں۔

ان کے مطابق اڈوانی نے جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلہ کو 'افسوس ناک لیکن ضروری' قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے جسونت سنگھ کے اس بیان کا بھی جواب دیا کہ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس پر سب سے پہلے ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نےہی پابندی لگائی تھی۔

(جسونت سنگھ نے جناح پر اپنی کتاب میں لکھا ہےکہ تقسیم ہند کے لیے بانی پاکستان کے ساتھ ساتھ پٹیل اور نہرو بھی ذمہ دار تھے۔ پٹیل کو بی جے پی میں انتہائی مقدس مقام حاصل ہے۔)

اڈوانی نے کہا کہ یہ پابندی وزیر اعظم نہرو کے کہنے پر لگائی گئی تھی جسے ایک ہی مہینے کے اندر اٹھا لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں مکمل تصویر پیش نہیں کی ہے۔

سشما سواراج نے یہ بھی کہا کہ اڈوانی لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر کی حیثیت سےکام کرتے رہیں گے حالانکہ آر ایس ایس کے سربراہ کے اس بیان کے بعد کہ پارٹی قیادت نوجوان رہنماؤں کے سپرد کی جانی چاہیے، یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اجلاس کے بعد قیادت میں تبدیلی کے بارے میں کوئی عندیہ مل سکتا ہے۔