وسندھرا راجے پر استعفی کا دباؤ

بی جے پی
،تصویر کا کیپشنانتخابات کے بعد سے بی جے پی میں اختلافات ابھرتے رہے ہیں

راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قانون ساز پارٹی کی رہنما اور ریاست کی سابق وزیراعلیٰ وسندھرا رجے سندھیا پر اپنے عہدے سے استعفی کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

وسندھرا راجے استعفی دینے سے انکار کرتی رہی ہیں اور ان کا کہنا کہ اس بارے میں ان سے پارٹی کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

لیکن ریاست میں بی جے پی کے صدر ارون چترویدی کا کہنا ہے کہ پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ نے محترمہ راجے سے فون پر بات کر کے ان سے ان کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کو کہا ہے۔ تاہم جب ان سے محترمہ راجے کے استعفی نا دینے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست کے بعد مرکزی قیادت نے وہاں تبدیلیوں کی خواہش ظاہر کی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ اس کے تحت وہاں کی قیادت دوسرے سینیئر رہنما کے ہاتھوں میں سونپی جائےگي۔

جیسے ہی محترمہ راجے کے استعفی کی بات شروع ہوئی ان کی پارٹی کے ریاستی اسمبلی کے ارکین ان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے اور کہا کہ وہ وسندھرا کے ساتھ ہیں۔ اس سلسلے میں محترمہ راجے نے لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کے لیے وقت بھی مانگا تھا لیکن وہ ان سے نہیں ملے۔

مبصرین کے مطابق اس مسئلے پر پارٹی میں رسہ کشی پائی جاتی ہے اس لیے وسندھرا نے اب تک استعفی نہیں دیا ہے لیکن اب پارٹی کی اعلی کمان سمجھوتے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ راجستھان میں وسندھرا کو اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی جگہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر چکے اور اب وہ کسی بھی وقت اپنا استعفی سونپ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اعلیٰ کمان محترمہ راجے کی بات کبھی ٹالتی نہیں تھی لیکن ریاستی اسمبلی میں ہار کے بعد پارٹی ان کی جگہ کسی دوسرے رہنما کو لانا چاہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وسندھرا راجے سندھیا کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر انہوں نے استعفیٰ دید دیا تو پھر ریاستی سیاست میں واپسی مشکل ہوجائےگی اسی لیے وہ استعفی دینا نہیں چاہتیں۔