انڈیا: چندریان مشن کا خاتمہ

ہندوستان کے خلائی ادارے’اسرو‘ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر بھیجےگئے پہلے بھارتی خلائی جہاز چندریان کا مشن وقت سے پہلے ہی ختم ہوگیا ہے۔
ادارے کےحکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز اس سے پوری طرح رابطہ ٹوٹ گیاجس کے بعد یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ مشن پوری طرح ختم ہوگيا ہے۔
چندریان پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ایم انّادرائی نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ اب چندریان مشن کو ختم سمجھا جائے۔ ’آج صبح ڈیڑھ بجے چندریان سے ہمارا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے کئی بار کوشش کی لیکن رابطہ بحال نہیں ہوسکا۔‘
لیکن مسٹر دروائی کا کہنا تھا کہ اس مشن کے خاتمے سے سائنسداں مایوس نہیں ہیں۔ ’چندریان کو جو کام کرنا تھا اسے وہ کرچکا تھا اور تقریبا نوے فیصد ڈیٹا بھیج چکا ہے۔‘
چندریان کو تقریباً دس ماہ قبل دو برس کے لیے چاند پر بھیجا گیا تھا لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اس سے رابطہ ختم ہوگیا۔
بھارت کی طرف سے خلا نورد کے بغیر پرواز کرنے والے خلائی جہاز چندریان کو جب پہلی بار چھوڑا گیا تھا تو اس کی کامیابی پر کافی خوشیاں منائی گئی تھیں۔ لیکن تھوڑے دن بعد ہی اس میں خرابی آنے کی وجہ سے بھارت کے چاند مشن کو دھچکا لگا تھا۔
تمل ناڈو کے نزدیک اور آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع شری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز سے چندریان کو 22 اکتوبر 2008 کو روانہ کیا گیا تھا۔ مشن کے لانچ کے وقت سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ چندریان -1 چاند کی سطح سے سو کلومیٹراوپر معلق رہے گا۔
ہندوستانی سائنسدانوں کے مطابق یہ مشن خلائی تحقیق میں ایک اہم قدم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مشن کے لیے یورپی خلائی ایجنسی اور امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) سے اشتراک کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔







