عشرت لشکر کی دہشتگرد تھی:گجرات حکومت

گجرات کی حکومت نے جسٹس ایس پی تمنگ کی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عشرت جہاں اور ان کے تین ساتھیوں کا پولیس انکاؤنٹر جعلی نہیں تھا اور وہ عدلیاتی رپورٹ کو جیلنج کرے گی ۔
گجرات حکومت کے ترجمان اور ریاستی وزیر جے نارائن ویاس نے احدآباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس تمنگ کی تحقیقات کا کوئی جواز نہیں تھا اور حکومت ان کی رپورٹ کو چیلنج کرے گی ۔
اس سے قبل جوڈیشیل مجسٹریٹ نے پیر کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کالج طالبہ انیس سالہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو پولیس نے 2004 میں دہشت گرد بتا کر جعلی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پولیس نے انعام اور ترقی کے لیے انہیں قتل کیا تھا ۔
گجرات حکومت کے ترجمان جے ناراین ویاس نے اس انکوئری کے بارے میں سوال کرتے ہو ئے کہا '' جب گجرات ہائی کورٹ نے 13 اگست کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اسے 30 نومبر تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا تھا تو پھر اچانک ایک ذیلی کورٹ کی انکوائری کے کیا معنی ہیں ۔''
مسٹر ویاس نے کہا کہ فطری انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ جن پولیس افسروں پر جعلی مقابلے کا الزام لگایا گیا ہے انہین اپنی صفائی دینے کا موقعہ دیا جاتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کے ذیلی عدالت کو اس طرح کی تحقیقات کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے ۔
مسٹر ویاس نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کی گئی بیان حلفی سے حوالے بھی دیے جس میں عشرت جہاں سمیت سبھی چاروں کولشکر طیبہ کا دہشت گرد بتایا گیا ہے ۔ انہون نے کہا کہ عشرت جہان دہشت گرد تھی اور ان کے بعض ساتھی پہلے بھی مجرمانہ فعل میں ملوث تھے ۔
عشرت کی والدہ شمیمہ کوثر کے وکیل مکل سنہا نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے بیان حلفی میں بہت بڑی غلطی کی ہے '' مرکز نے وہی اطلاعت بیان حلفی میں ڈال دیں جو اطلاعات گجرات حکومت نے اسے فراہم کی تھیں ''
مسٹر سنہا نے یہ بھی بتا یا کہ ذیلی عدالت نے تحقیقات کا حکم 2004 میں ہی دیا تھا لیکن اس پر عمل اگست میں شروع ہوا ۔ انہون نے یہ بھی کہا کہ جوڈیشیل مجسٹریٹ ہر فطری موت کی تحقیقات کرتے ہیں ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل ممبئی میں عشرت جہاں کی والدہ شمیم کوثرنے ایک نیوز کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ جو لوگ فرضی انکاؤنٹر میں ملوث تھے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ عشرت کی بہن نے کہا '' ہم 2004 سے کہ رہے ہیں کہ ہماری بہن دہشت گرد نہیں تھی ۔ ہمین خوشی ہے کہ اب خود عدالت نے یہ کہا ہے کہ وہ بے قصور تھی ۔ جو لو گ اس سنگین جرم میں ملوث تھے انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں ''
مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی کے گوپی ناتھ پلئی نے گجرات ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کر رکھی ہے جس میں انہوں نے اس معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ گجرات حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے ۔






















