'خاموش مذاکرات'

چدامبرم
،تصویر کا کیپشنوزیرداخلہ پی چدامبرم نے کہا تھا حکومت ہند کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ ہندونواز گروپوں کے ساتھ بھی ’خاموش‘ مذاکرات کرےگی۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارتی وزیرداخلہ کی طرف سے کشمیری علیٰحدگی پسندوں کے ساتھ خاموش مذاکرات کی پیشکش پر اکثر حلقے پراُمید ہیں۔

کشمیری مبصرین کی اکثریت بھارت کی طرف سے 'خاموش مذاکرات' کی پیشکش کو مسئلہ کشمیر سے متعلق ہورہی درپردہ پیش رفت کا اشارہ سمجھتی ہے۔

تاہم بعض مبصرین ماضی میں مذاکرات کے ناکام تجربوں کی وجہ سے محتاط ہیں اور اس پیشکش کو کشمیر سے متعلق بھارت پر عالمی دباؤ کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

کشمیر کی اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر صدیق واحد کہتے ہیں: ' بہت زیادہ خوش امیدی تو نہیں ہے، لیکن وزیرداخلہ کی نئی پیشکش سے پتہ چلتا ہے کہ شرم الشیخ میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو کچھ طے ہوا ، اس پر اب عمل ہونے لگا ہے۔ اگر حریت کانفرنس کا کوئی دھڑہ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہمیں اسے حوصلہ دینا ہوگا۔ بات چیت کو گناہ کبیر کے طور پیش کرنا کشمیری مفادات کے خلاف ہے۔'

پروفیسر واحد مزید کہتے ہیں کہ وزیرداخلہ کے بیان سے لگتا ہے درپردہ دونوں ملکوں میں کوئی مفاہمت ہے۔ 'اگر اس عمل کو کسی نے سبوتاژ نہ کیا تو اس بار کچھ نہ کچھ ہوگا۔'

نوجوان صحافی عاشق پیرزادہ چدمبرم کے بیان کو نئی دلّی کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا عکاس سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 'آج تو ہم نئی اصطلاحات سُن رہے ہیں۔ وزیرداخلہ نے پہلی بار سولیوشن (حل) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ آج تک بھارتی قیادت میں کسی نے کشمیر کو مسئلہ قرار دے کر اسکے حل کی بات نہیں کی ہے۔'

مسٹر پیرزادہ مزید کہتے ہیں کہ چدمبرم کا کشمیر کو تاریخ اور جغرافیہ کے اعتبار سے الگ خطہ تسلیم کرنا اور یہ کہنا کہ غالب اکثریت کی خواہشات کا احترام کیا جائے گا، بہت ہی معنی خیز ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ خاموش مذاکرات کیسے ہونگے؟ اس حوالے سے کشمیر یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر گُل محمد وانی کہتے ہیں : 'جسے آپ لوگ بیک چینل بات چیت کہتے ہیں وہ صرف ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر نئی دلّی یہاں کے سیاسی گروپوں کے ساتھ خاموش مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے تو وہ مقرر کردہ رابطہ کاروں کے ذریعہ ہی ہوگی۔'

واضح رہے کہ بھارت کے کئی سینئر افسر، صحافی اور سراغرساں اداروں کے عہدیداروں نے مختلف مراحل پر کشمیر اور نئی دلّی کے درمیان خفیہ اور اعلانیہ رابطہ کاری کا کام کیا۔ ان میں سینئر افسر وجاہت حبیب اللہ، آر کے مشرا، صحافی پریم شنکر جھا، کشمیری سیاست دان اور سابق بھارتی وزیر سیف الدین سوز وغیرہ کچھ نمایاں نام ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبے کے موجودہ گورنر نریندر ناتھ ووہرا بھی حکومت ہند کے باقاعدہ طور مقرر کئے ہوئے رابطہ کار تھے۔

قانون اور عالمی امور کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین بھارت کی اس پیشکش کو عالمی دباؤ کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ میرواعظ عمرفاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس بھارت کی اس 'ڈیمیج کنٹرول مشق' میں محض استعمال ہوگی۔

ڈاکٹرشوکت کا کہنا ہے: 'چین کے بعد اب سعودی عرب نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کی ہے۔ سعودی عرب نے براہ راست مسئلہ کشمیر کے حل کو امریکہ کی قومی سلامتی کے ایجنڈا کا حصہ قرار دیا۔ اس پس منظر میں ابھی یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ پاکستان کی سرکاری پالیسی کیا ہے۔ حال ہی میں وہ اقوام متحدہ میں روایتی موقف کا اعادہ کرچکے ہیں۔ علیٰحدگی پسندوں کو ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔'

لیکن اعتدال پسند حریت دھڑے نے پہلے ہی مذاکرات میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

حریت کے اسی دھڑے کے ترجمان اعلیٰ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم کھلے ذہن سے آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔'

یہ پوچھنے پر کہ وزیرداخلہ نے ہندنواز گروپوں کو بھی بات چیت کی دعوت دی ہے، پروفیسر بٹ کا کہنا تھا: 'زمانہ بدل گیا ہے۔ فاروق عبداللہ اور مفتی سعید بھی اب مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتے ہیں۔ اب صرف متفقہ ایجنڈا تیار کرنا ہے، جو خاموش بات چیت سے ہی ممکن ہوگا۔'

دوطرفہ مذاکرات کی ہمیشہ مخالفت کرنے والے حریت کانفرنس کے متوازی دھڑے کے سربراہ سید علی گیلانی کا کہنا ہے: 'جب بھارت جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ تسلیم کرے گا، قیدیوں کو رہا گا اور کالے قوانین کو ختم کیا جائے گا اور تمام نظربندوں کو رہا کیا جائے گا اسکے بعد ہی بات چیت معنی خیز ہوگی۔ لیکن یہ بات چیت بھی سہ فریقی یعنی ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان ہوگی اور اس کا ایجنڈا یہ ہوگا کہ اقوام متحدہ میں حق خودارادیت کی جو قرار دادیں ہیں ان کو کیسے عملی جامہ پہنایا جائے۔' گیلانی کا کہنا تھا کہ پچھلے باسٹھ سال میں ایک سو تیس مرتبہ بات چیت ہوئی ہے، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔

واضح رہے کہ میرواعظ عمرفاروق نے بات چیت شروع ہونے سے قبل حُریت کانفرنس سے باہر علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو گیلانی اور محمد یٰسین ملک کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گی۔ یہ پوچھنے پر کہ میرواعظ نے ان سے رابطہ کیا تو ان کا مؤقف کیا ہوگا، گیلانی نے بتایا: 'دو ہزار آٹھ میں جب میرواعظ صاحب یہاں آئے تھے تو ہم نے ایک معاہدہ کیا تھا جس پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے میں دو نکات تھے۔ ایک یہ کہ ہمارا بنیادی مطالبہ حق خودارادیت کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور دوسرا یہ کہ بات چیت کے لئے وہی شرائط ہوں گی جو میں نے آپ کو بتائی ہیں۔'