’ہیڈلی سازش: کڑی پاکستان میں‘

پی چدمبرم
،تصویر کا کیپشن’ڈیوڈ ہیڈلی کئی بار پاکستان گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد ایف بی آئي کی ہدایت پر پاکستان میں دو یا اس سے زیادہ اور افراد کو گرفتار کیا گیا‘

ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ڈیوڈ ہیڈلی کی دہشتگردی کی سازش کا سلسلہ پاکستان سے ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس میں واضح طور پر پاکستان سےتعلق کا پتہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے وہ حلف نامہ پڑھا ہے جو ایف بی آئی نے عدالت میں پیش کیا ہے اور جسے بعد میں اخبارات نے شائع کیا تو اس میں پاکستان سے کڑی جڑنے کا پتہ چلتا ہے۔‘

دریں اثناء ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جو بھی حالات ہیں اس کا بھارت پر بھی براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ’افغانستان اور پاکستان میں امن کی صورت حال ہی بھارت کے مفاد میں ہے۔‘

انہوں نے یہ بات یورپی یونین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ منموہن سنگھ نے اس موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ ڈیوڈ ہیڈلی معاملے پر پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو کوئی خبر نہیں دی گئی تھی۔

بھارتی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ ہیڈلی گرفتاری سے پہلے کئی بار پاکستان گئے تھے اور ان کی گرفتاری کے بعد ایف بی آئي کی ہدایت پر پاکستان میں دو یا اس سے زیادہ اور افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈیوڈ ہیڈلی کو امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے کہنے پر گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر لشکر طیبہ کی جانب سے ہندوستان سمیت کئی ممالک میں دہشتگردی کے حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

انہیں تین اکتوبر کو امریکہ میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان جانے کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ انہیں امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی اور ڈنمارک کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروس کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور وہاں اسلامی شدت پسند گروپ لشکرِ طیبہ کے ارکان سے ملاقات کی اور حرکت الجہاد اسلامی کے ساتھ رابطہ کیا۔

ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کا معلومات کے مطابق ڈیوڈ ہیڈلی اور پاکستانی نژاد کینڈین شہری تہور حسین رانا ہندوستان کے بعض مقامات جیسے دلی میں واقع نیشنل ڈیفنس کالج پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے لیکن پاکستان نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی تھی۔

گزشتہ برس ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو تلخی پیدا ہوئی تھی وہ اس وقت کم ہوتی نظر آئی جب حال ہی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کشمیر میں یہ کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہی مسئلے کا حل ہے لیکن جہاں تک شدت پسندی کا مسئلہ ہے، ہندوستان پاکستان کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرنے کے لیے کہتا رہا ہے۔