خواجہ سراؤں کے لیے نئی شناخت

- مصنف, صلاح الدین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام نئی دلی
ہندوستان میں الیکشن کمیشن نے خواجہ سراؤں یعنی ہیجڑوں کو ایک علیحدہ شناخت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب وہ ’دیگر‘ کے زمرے میں شمار کیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کی ووٹروں کی لسٹ میں جنس کے لیے اب تک صرف مرد، عورت یعنی ایم اور ایف کا زمرہ ہوتا تھا۔ لیکن ملک کے خواجہ سرا برسوں سے اس بات کا مطالبہ کرتے آئے تھے کہ انہیں ایم اور ایف سے علحیدہ ایک نئی شناخت دی جائے۔
کمیشن نے اسی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب ایم اور ایف کے ساتھ ساتھ ’او‘ (ادر) یعنی دیگر بھی شامل کر لیا گیا ہے اور جو بھی مرد یا عورت کی علاوہ کوئی دوسرے زمرے کو اختیار کرنا چاہے تو وہ ’او‘ لکھ سکتا ہے۔
ہندوستان کی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو الگ سے کسی دوسرے درجے میں شمار نہیں کیا گيا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً دس لاکھ ہیجڑے ہیں۔
اس فیصلے کے مطابق ایسے ہم جنس پرست اور خواجہ سرا جو مرد یا خواتین کی فہرست میں شامل نہیں ہونا چاہتے وہ اب انتخاب لڑنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے اپنی شناخت کے لیے ’دیگر‘ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
سنہ دو ہزار دو میں ریاست مدھیہ پردیش کی ایک خواجہ سر ا شبنم موسیٰ نے پہلی بار ریاستی اسمبلی کا انتخاب جیتا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شبنم نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ’ایک ایسے سماج کو جس کے ساتھ صدیوں سے امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے اسے ایک نئی شناخت دے کر الیکشن کمیشن نے قابل تعریف کام کیا ہے۔‘
لیکن شبنم کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ جو ظلم زیادتی ہوتی ہے اور سماج میں انہیں جس نظر سے دیکھا جاتا ہے اسے ختم کرنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے۔ ’میں انتخاب اس لیے جیت گئی تھی کیونکہ لوگ اس وقت رہنماؤں سے بہت ناراض تھے۔ جیت سے سماج میں مجھے عزت بھی ملی لیکن خواجہ سراؤں کے ساتھ ہو رہے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے ان کی پوری طرح نمائندگی ہونی چاہیے۔‘
ہندوستان میں یہ مطالبہ بھی کافی دنوں سے ہوتا رہا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ووٹ ڈالنے اور انتخاب میں حصہ لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں علیحدہ پہچان دی جائے ورنہ وہ عام سماج سے دور ہی رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں ہندوستان کی ایک عدالت نے ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں سے متعلق ایک اہم فیصلہ میں کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے جسمانی تعلقات قائم کر سکتے ہیں جس کی مرکزی حکومت نے بھی حمایت کی تھی۔ خواجہ سراؤں کی مشکلات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا یہ ایک اور اہم فیصلہ ہے۔






















