سونے سے پہلے، سونے کے بعد

سوتے ہوئے لوگ
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

اگر آپ سکیورٹی فورسز میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں لیکن آپ کا قد ’بارڈر لائن‘ ہے تو ایک بات کا دھیان رکھیں۔ آپ کا قد دن میں گھٹتا بڑھتا رہتا ہے!

یہ فیصلہ سائنسی تحقیق کے مطالعہ کے بعد دلی ہائی کورٹ نے سنایا ہے جس سے ایک نوجوان نے رجوع کیا تھا۔ سینٹرل ریزرو پولیس فورس میں بھرتی کے لیے پہلے میڈیکل میں اس نوجوان کا قد ایک سو ستر سینٹی میٹر سے زیادہ ناپا گیا لیکن چند روز بعد دوسرے میڈیکل میں یہ گھٹ کر ایک سو ستر سے کم رہ گیا۔ اور اس بنیاد پر اس کی نوکری کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

لیکن ججوں کی موجودگی میں جب اس کا قد تیسری مرتبہ ناپا گیا تو وہ ایک سو اکہتر سینٹی میٹر نکلا۔ عدالت نے اس شخص کو نوکری دینے کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کا قد صبح سویرے سب سے زیادہ ہوتا ہے اور سونے کے وقت سب سے کم۔

اب شادی کا موقع ہو یا نوکری کا، اگر کسی کام میں آپکا قد آڑے آئے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے صبح ذرا سویرا اٹھنے کی عادت ہے۔۔۔!

زبان سنبھال کر

سچن تندولکر جب چھوٹے تھے تو سابق کرککٹر ونود کامبلی کے ساتھ ہندو قوم پرست تنظیم شو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے سے آشیرواد لینے جاتے تھے۔ ویسے تو سچن بیس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد اب بھی چھوٹے ہی ہیں لیکن شو سینا سے ان کی محبت میں تھوڑی دراڑ آگئی ہے۔

سچن نے صرف اتنا کہا کہ انہیں مراٹھی ہونے پر تو فخر ہے لیکن ممبئی ہندوستان کا حصہ ہے اور میں ہندوستان کے لیے کھیلتا ہوں۔۔۔ ممبئی سب ہندوستانیوں کی ہے۔۔۔

لیکن شو سینا، جو صرف مراٹھی مانوس (آدمی) کی بات کرنا پسند کرتی ہے، سچن کے بیان پر چراغ پہ ہے۔ بال ٹھاکرے نے اپنے اخبار کے اداریہ میں لکھا ہے کہ جب لوگ مراٹھی قوم کے لیے خون بہا رہے تھے تو سچن پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ وہ صرف کرکٹ کھیلیں، سیاست نہیں!

سچن آپ بڑے سٹار ہیں، لیکن آپکو اخبار بھی پڑھنا چاہیے۔ اس سے آپکی معلومات بڑھے گی۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ گزشتہ ہفتے جب سماجوادی پارٹی کے ایک غیر مراٹھی لیڈر نے مہارشٹر اسمبلی میں ہندی زبان میں حلف اٹھانے کی کوشش کی تھی تو (بال ٹھاکرے کے ناراض بھتیجے) راج ٹھاکرے کے پارٹی رہنماؤں نے اسمبلی کے اندر ہی ان کی پٹائی کر دی تھی؟

ممبئی بے شک تمام ہندوستانیوں کی ہے، بشرطیکہ وہ سب مراٹھی ہوں!

ہم تو یہ ہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ آپ بال ٹھاکرے کی بات سنیں، رات کو سوتے وقت بھی ان کا قد آپ سے بہت زیادہ ہوتا ہے!

دم کا نشان، انگوٹھے سے دمدار

ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں پولیس نے ایک بندریا کی تحریر پر اس کے ’شوہر’ کے خلاف اغوا اور قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کو موصول شکایت کے مطابق اس بندر نے اپنے بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی!

اخبار ایشین ایج کے مطابق تحریری شکایت پر بندریا نے انگوٹھے کے بجائے اپنی دم کا نشان لگایا ہے! پولیس کے مطابق بچے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ اڑیسہ کی پولیس ڈومیسٹک وائیولینس (گھر میں تشدد) کو کافی سنجیدگی سے لیتی ہے! اور اپنے آباؤ اجداد کی شکایات پر تیزی سے کارروائی بھی کرتی ہے!