کشمیر: پانچ ہزار سے زائد اہلکار ہلاک

فائل فوٹو، بھارتی فوجی
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شورش کے بیس سال میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں کے پانچ ہزار دو سو نواسی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف بُدھ کو سرینگر میں منعقدہ پولیس یادگاری دن کے موقع پر صوبے کے پولیس سربراہ کُلدیپ کُھڈا نے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یکم ستمبر دو ہزار آٹھ سے اس سال اکتیس اگست تک پورے ہندوستان میں آٹھ سو اکیس پولیس اہلکار ’ملک کی سالمیت کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے‘ جن میں جموں کشمیر پولیس کے چھتیس اہلکار و افسر بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر صوبے کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بھی مارے جانے والے پولیس اہلکاروں اور افسروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پولیس افسروں سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر سے متعلق مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔

عمر عبداللہ
،تصویر کا کیپشنہر طرح کی بندوق کو خاموش ہونا چاہیے: عمر عبداللہ

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر طرح کی بندوق کو خاموش ہونا چاہیے‘ ہر طرح کی بندوق، چاہے یہاں ہو یا وہاں، کیونکہ بندوق کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور تمام مسائل بات چیت کے ذریعہ ہی حل ہونگے‘۔

واضح رہے پولیس یادگاری دن بھارت کے دیگر صوبوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ہرسال اکیس اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

سن اُنیس سو انسٹھ میں اسی روز چینی فوج نے لداخ خطے میں بھارتی دفاعی پوزیشن پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں وہاں تعینات بھارت کی مرکزی پولیس فورس سی آر پی ایف کے دس جوان ہلاک ہوگئے۔ ان جوانوں کی یاد میں ہر سال پورے ملک میں پولیس میموریل ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

بدھوار کو سرینگر میں ایک تقریب کے دوران پچھلے بیس سال میں ہلاک ہونے والے کشمیری پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔