اگر ایک لاکھ ہوتے۔۔۔

راہول گاندھی
،تصویر کا کیپشنراہول گاندھی وزیر اعظم بننے کے خواہش مند نہیں ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

کانگریس لیڈر راہول گاندھی آندھرا پردیش کے دورے پر گئے تو انہوں نے یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے خواہش مند نہیں ہیں۔

دلی واپس لوٹ رہے تھے تو ائرپورٹ کے راستے میں ان کی نظر ایک انتہائی چھوٹے قد کے شخص پر پڑی جو ہاتھ میں کچھ کاغذات لیے سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ راہول نےگاڑی رکوائی اور ناگاراجو نامی اس شخص کی عرضی اپنے ساتھ لے گئے۔

ناگاراجو نے بعد میں اخبار والوں کو بتایا کہ انہوں نے راہول سے ایک لاکھ روپے کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

’میرا قد بہت کم ہے اس لیے مجھ سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مان بھی جاتا ہے تو وہ لوگ پیسے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس لیے میں نے راہول سے ایک لاکھ روپے مانگے ہیں۔‘

ناگاراجو بھائی، اگر راہول کے پاس ایک لاکھ روپے ہوتے تو وہ خود شادی نہیں کر لیتے؟ میرا مشورہ مانیں تو آپ ان کی شادی کے لیے چندا جمع کرنے میں جٹ جائیے، جوانی گزر چکی ہے، وزیر اعظم وہ بننا نہیں چاہتے، کوئی اور نوکری ان کے پاس ہے نہیں تو ایسے میں بغیر پیسے کے ان سے کون شادی کرے گا؟

ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے

انڈیا میں پبلک ٹائلٹ
،تصویر کا کیپشنانڈیا میں پبلک ٹائلٹ کا ایک منظر

اگر آپ نے ہندوستان میں ریل سے سفر کیا ہے تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ پٹریوں کے آس پاس کی زمین اتنی سر سبز کیوں ہوتی ہے۔ یہ قدرتی طور پر زر خیز زمین نہیں ہے، یہ کروڑوں ہندوستانیوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

یہ ایک انتہائی سنجیدہ اشو ہے۔ لیکن انیس نومبر کو ورلڈ ٹائلٹ ڈے کے موقع پر ایک انگریزی اخبار کی عجیب و غریب سرخی پر نظر رک گئی:

’ آج ٹائلٹ کے عالمی دن کا جشن منائیں!‘

لیکن کیسے؟ اس موقع پر ایسا کیا کریں جو روز نہیں کرتے؟

ان لوگوں کے لیے جو واقعی کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں میں نے گوگل میں سرچ کیا تو ورلڈ ٹائلٹ آرگنائزیشن کی ویب سائٹ نظر آئی جو عالمی سطح پر صفائی ستھرائی اور ٹائلٹس کے بہتر انتظام کے لیے بیداری پیدا کرتی ہے۔

یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے۔ ویب سائٹ پر ’جشن‘ منانے کے لیے کئی آئڈیاز موجود ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کے ساتھ کسی عوامی جگہ پر ایک منٹ کے لیے ’سکواٹ‘ کریں یا اکڑوں ہو کر بیٹھیں، اسی انداز میں جیسے آپ ٹائلٹ میں بیٹھتے ہیں۔

ویب سائٹ پر اس کی ایک تصویر بھی موجود ہے جس میں تین عورتیں اسی انداز میں بیٹھی ہوئی مسکرا رہی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ٹائلٹ پیپر ہے۔

ہم توصرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ علامتی ہی صحیح ایسے ’جشن‘ کا ہندوستان میں کوئی فائدہ نہیں۔ کروڑوں ہندوستانی روزانہ ریل کی پٹریوں کے کنارے ٹائلٹ پیپر کے بغیر ٹائلٹ ڈے کا جشن مناتے ہیں۔

ایک کھائیں یا تئیس نہ کھائیں؟

جے رام رمیش نے مشورہ دیا ہے کہ دنیا کو بچانا ہے تو لوگ ’بیف‘ کھانا چھوڑ دیں
،تصویر کا کیپشنجے رام رمیش نے مشورہ دیا ہے کہ دنیا کو بچانا ہے تو لوگ ’بیف‘ کھانا چھوڑ دیں

مجھے ہندوستان میں دو وزیر اچھے لگتے ہیں، ششی تھرور اور جے رام رمیش۔ دونوں پڑھے لکھے ’ایلیٹ‘ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، بہت ذہین ہیں اور زیادہ دیر متنازعہ بیانات سے دور نہیں رہتے۔

آب و ہوا میں تبدیلی پر کوپن ہیگن کانفرنس سے پہلے جے رام رمیش نے مشورہ دیا ہے کہ دنیا کو بچانا ہے تو لوگ ’بیف‘ کھانا چھوڑ دیں۔

’ کاربن گیسوں کے اخراج کی واحد سب سے اہم وجہ کھانے میں بیف کا استعمال ہے۔۔۔بیف نہ کھانے سے عالمی حدت کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔‘

لیکن رمیش صاحب، سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ بیف کھانے سے ایسے جانور ختم ہوتے ہیں جو فضا میں میتھین گیس کی بڑھتی ہوئی مقدار کے لیے ذمہ دار ہیں اور میتھین کاربن گیسوس سے تئیس گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔

سائنس کی باریکیوں میں جائے بغیر ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں پہلے میتھین کے اخراج پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی میں مزہ ہے۔

میرا حساب ذرا کمزور ہے لیکن اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ایک کلو بیف کے استعمال سے پیدا ہونے والی کاربن گیسوں یا نہ کھانے سے پیدا ہونے والی میتھین کی مقدار برابر ہے تو کیا ایک گائے کھانا تئیس گائے نہ کھانے کے برابر فائدہ مند نہیں ہوگا؟

حساب ذرا پیچیدہ ہے، لیکن آب و ہوا کا مسئلہ بھی۔