’دہشت گرد کا وکیل‘

ممبئی حملوں کی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی کی جانب سے برطرف کیے گئے قصاب کے وکیل عباس کاظمی نے منگل کے روز میڈیا سے خطاب میں کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ان کی بہت بے عزتی ہوئی۔
برطرف کیے جانے کے ایک دن بعد سیشن کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ عدالت میں امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے اہلکار سے کہا کہ ’اب دہشت گرد کے وکیل آپ سے جرح کریں گے‘۔
کاظمی نے کہا کہ سرکاری وکیل نے انہیں عدالت میں ’ابو عباس‘ کہہ کر پکارا( حملوں کے مبینہ مفرور ملزمان ابو قحافہ اور ابو جندال ہیں)۔
ایڈوکیٹ کاظمی نے عدالت میں سماعت کے دوران ہونے والی ’بے عزتی‘ کی مزید مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان انہیں اس مقدمہ لڑنے کا انعام دے گا۔
کاظمی نے ایسے کئی واقعات دہرائے جن سے انہیں اپنی سبکی کا احساس ہوا ہو۔ انہوں نے مثال دی کہ عدالت کے کمرے میں داخلے سے قبل پولیس متعدد مرتبہ ان کی تلاشی لیتی تھی حتی کہ ان کے جوتے بھی اتروائے گئے۔
انہیں موبائیل فون بھی لےجانے کی اجازت نہیں تھی جبکہ سرکاری وکیل نکم اپنے ساتھ اپنا موبائیل فون لے جاتے تھے۔ کرائم برانچ کے افسران کو فون لے جانے کی اجازت تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے جج سے اس کی شکایت کی اور دوسرے روز وہ اپنا موبائیل فون ساتھ لے گئے تو سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔
کاظمی نے تاہم عدالت کے فیصلہ پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کی عزت کرتے ہیں اور ابھی وہ کسی معاملہ میں کچھ کہنا نہیں چاہتے کیونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
عدالت نے استغاثہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالتی کارروائی کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ بہت ہی آسان کیس ہے۔ ممبئی حملوں کی برسی پر وہ اس کیس کو ختم کر دیں گے لیکن پھر انہوں نے ایک برس پورا ہونے کے بعد اب گواہان کی طویل فہرست کیوں پیش کی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کاظمی کو اس بات کا دکھ ہے کہ کیس کو لینے کے بعد انہیں سماج کی طرف سے بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کئی مسلم تنظیموں نے ان کے اس فیصلہ کی مخالفت کی تھی لیکن انہوں نے ان سب کے باوجود یہ کیس لڑا ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت ہی ایمانداری کے ساتھ اپنے مؤکل کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی اور آج اس کا انہیں یہ صلہ ملا ہے؟
البتہ کاظمی نے کہا کہ وہ عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف کسی بھی عدالت میں اپیل نہیں کریں گے ’میں اس معاملہ کو یہیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘
جج ایم ایل تہیلیانی نے ایڈوکیٹ کا ظمی کو پیر کے روز عدالت کے ساتھ عدم تعاون اور کیس میں جان بوجھ کر تاخیر پیدا کرنے کی کوشش جیسے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔ کاظمی نے ان اکہتر گواہان کے حلف نامے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جسے استغاثہ نے پیش کیا تھا۔ کاظمی کا مطالبہ تھا کہ وہ ان میں سے چھپن گواہان پر جرح کرنا چاہتے ہیں۔
کاظمی کی جگہ اس کیس کے جونیئر وکیل کے پی پوار یہ کیس لڑ رہے رہیں اور آج مقدمہ کی سماعت کے دوران کے پی پوار نے بھی عدالت سے تین سو چالیس میں سے انسٹھ گواہان کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کی اجازت مانگی اور جج تہیلیانی نے ان کی اس درخواست کو قبول کر لیا۔
گواہان کو عدالت میں پیش ہونے کے مطالبہ کی منظوری کے بعد لگتا ہے کہ کیس جلد ختم نہیں ہو گا۔






















