شاہد اعظمی کے’قاتل‘ گرفتار

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پونے
ممبئی پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے ایڈوکیٹ شاہد اعظمی کو قتل کرنے والے مبینہ تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے ممبئی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اعظمی کا قتل مافیا سرغنہ بھرت نیپالی نے کرایا تھا۔
ماریا نے بتایا کہ گرفتار شدگان ملزمان دیویندربابو راؤ جگتاپ ، ونود وچارے اور پنٹو دیورا کے علاوہ ہنس مکھ سولنکی اس کیس میں پولیس کو مطلوب ہے۔ماریا کے مطابق ملزم ونود نے قتل کی واردات انجام دینے سے پہلے اعظمی کے دفتر اور مکان کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا۔ واردات والے روز ونود دفتر کے باہر واچ مین پر نگاہ رکھنے کھڑے رہے جب کہ سولنکی اور دیویندر نے گولیاں چلائیں۔
ماریا نے کہا کہ ملزمان سے ابتدائی تفتیش پر یہ پتہ چلا ہے کہ قتل کے لیے انہیں ایک لاکھ روپیہ کی سپاری دی گئی تھی۔ لیکن ماریا کے مطابق ابھی قتل کا مقصد سامنے نہیں آیا ہے۔
شاہد کے قتل کے بعد ان کی فیملی نے اس قتل کے لیے پولیس کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ اعظمی کے بھائی طارق کا کہنا تھا کہ جب شاہد کو فون پر دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں تو پھر پولیس نے ان کی سیکورٹی کیوں ہٹا لی؟ اعظمی نے انہیں دھمکی ملنے کے بعد کرلا پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کرائی تھی جس کے بعد انہیں کچھ عرصہ کے لیے پولیس تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

جوان سال ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اس وقت ممبئی حملوں کے ایک ملزم فہیم انصاری کے دفاعی وکیل تھے۔ اس کے علاوہ وہ کئی حساس کیسوں میں ملزمان کے دفاعی وکیل تھے۔ گیارہ جولائی ٹرین دھماکے کے اہم ملزم فضل شیخ کے دفاعی وکیل تھے۔ اعظمی نے ٹرین دھماکوں کے ملزمین پر مکوکا لگائے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ یہ کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اورنگ آباد میں اسلحہ ضبطی کے الزام میں گرفتار ملزمان پر بھی مکوکا لگائے جانے کو انہوں نے چینلج کیا تھا یہ کیس بھی سپریم کورٹ میں التواء میں ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکہ کے ملزمان کے دفاع میں بھی وہ کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ اعظمی نے گھاٹ کوپر بم دھماکہ کے ملزمان کو عدالت میں ان کی پیروی کر کے انہیں باعزت بری کرایا تھا۔
شاہد کے ساتھی وکلاء انہیں ایک نڈر بیباک لیکن مخلص اور نرم گو اور جذباتی کہتے تھے۔
شاہد اعظمی کے والد بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ پولیس نے اعظمی اور ان کے ساتھیوں کو کشمیر کے وزیراعلی فاروق عبداللہ کے مبینہ قتل کی سازش کرنے کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ دسویں کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ تہاڑ جیل میں رہ کر اعظمی نے اپنی پڑھائی مکمل کی تھی اور سپریم کورٹ سے بری ہونے کے بعد انہوں نے معصوم بے گناہ مسلمانوں کے دفاع کے لیے قانون کی پڑھائی کی۔ ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی سند حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پریکٹس شروع کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







