لائیو, رہبر اعلی مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں: پینٹاگون کا دعویٰ

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زخمی‘ ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کل مجتبیٰ خامنہ ای کے نشر کیے گئے بیان پر سوال اٹھایا کہ اس میں کوئی ویڈیو یا آڈیو کیوں نہیں تھی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں کیوں۔‘

خلاصہ

  • رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں: پینٹاگون کا دعویٰ
  • تہران میں حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کے قریب دھماکے
  • امریکہ نے پابندی کا شکار ممالک کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی
  • اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں
  • پاکستان کے مختلف شہروں میں آج 'یوم القدس' کے موقع پر سکیورٹی کے پیش نظرمختلف شاہراہوں کو بند کیا گیا ہے۔
  • امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اس کا ایک طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا
  • اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات 'عارضی طور پر معطل' کر دی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. امریکی وزیرِ دفاع کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دباؤ میں ہے, بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹ مین کا تجزیہ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میں ابھی پینٹاگون سے نکلا ہوں جہاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    یہ محسوس ہوا کہ پیٹ ہیگستھ بڑھتی ہوئی امریکی میڈیا کے تندوتیز سوالات سے بچنے کے لیے جنگ کو اپنے دفاع کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

    یہ سکروٹنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایرانی حکومت کی بظاہر مزاحمت اور امریکی فوجی ہلاکتوں کی خبروں سے جنم لے رہی ہے۔

    پیٹ ہیگستھ نے ابتدا ہی سے میڈیا کو للکارا اور کہا کہ میڈیا کو یہ ’ماننا‘ ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی فوج کو ’تباہ‘ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اب آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور وہاں ’سٹارز اینڈ سٹرائپس اور سٹار آف ڈیوڈ‘ دیکھتی ہے، جسے انھوں نے حکومت کا بدترین خواب قرار دیا۔

    ان کے مطابق ایران کے روایتی ہتھیار، اسلحہ خانے اور پیداوار تباہ کی جا رہی ہے اور حکومت زمین کے نیچے ’چوہوں‘ کی طرح دبکی ہوئی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو زیادہ ’محبِ وطن‘ ہونا چاہیے۔

    لیکن دو اہم حکمتِ عملی کے سوالات پر، آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے، ان کے جوابات زیادہ تر گول مول تھے۔

    ان کی جھنجلاہٹ اس بات کی علامت محسوس ہوئی کہ امریکی انتظامیہ دباؤ میں ہے۔

  2. رہبر اعلی مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں اور چھپتے پھر رہے ہیں: پینٹاگون کا دعویٰ

    Pentagon

    ،تصویر کا ذریعہPentagon

    امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زخمی‘ ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کل مجتبیٰ خامنہ ای کا پڑھا گیا تحریری بیان یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس میں کوئی ویڈیو یا آڈیو کیوں نہیں تھی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے آپ جانتے ہیں کیوں۔‘

    وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ مجتبیٰ ’خوفزدہ‘ اور ’زخمی‘ ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ ’چھپتے پھر رہے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کی تعداد 90 فیصد کم ہو چکی جبکہ اس کے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز 95 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے مصروف تیل برداری کا راستہ ہے، میں ’انتہائی مایوسی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ ’کچھ ایسا ہے جس سے ہم نمٹ رہے ہیں۔‘

    پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت کی فوج کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کی فوج کو ’جنگ کے قابل نہ رہنے والی‘ بنا دیا گیا ہے۔

    پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی فضائی افواج کا امتزاج ’ناقابلِ شکست‘ ہے اور ان کی انٹیلیجنس ’مزید بہتر اور باریک بینی سے تیار‘ ہو رہی ہے۔

    وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس فضائی دفاع ہے نہ ہی بحریہ، اور اس کے میزائل لانچرز تباہ کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آج ’ایران کی فضاؤں پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی تعداد اب تک کی سب سے زیادہ ہو گی۔‘

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کی قیادت چھپ رہی ہے جبکہ امریکہ کا عزم ’ناقابلِ شکست‘ ہے، اس کے اختیارات زیادہ سے زیادہ ہیں اور صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس تمام اختیارات ہیں۔ وہ اس تنازع کی رفتار، انداز اور وقت کا تعین کریں گے۔‘

  3. ایرانی حکومت کے لڑکھڑانے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں, بی بی سی نیوز کے جیرمی بوون کا تجزیہ

    ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکیوں کی توقع تھی کہ جنگ کے پہلے دن جب رہبر اعلیٰ کو قتل کیا گیا تو ایران میں نسبتاً تیزی سے تتر بتر ہونے کا آغاز ہو جائے گا۔ لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ایرانی حکومت لڑکھڑا رہی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے شخص ہیں جو مضبوط قیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد وینزویلا جیسا کوئی واقعہ رونما ہوگا۔

    اگر ایسا ہے تو یہ اس بات کی خطرناک کمی کو ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی حکومت کس طرح تشکیل دی گئی ہے۔

    ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور نفرت کی ایک طویل تاریخ ہے۔

    اسرائیلی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ اس حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس میں ان کے والد، والدہ، بیوی، ایک بہن اور شاید ان کا بیٹا مارا گیا۔

    یہ حیران کن ہے کہ چونکہ تہران ان کی شخصیت کا ایک جادوئی حلقہ اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، انھوں نے یہ موقع نہیں دیا کہ ان کے بارے میں کوئی نیا مواد سامنے لایا جا سکے۔

    یہ اور بات ہے کہ خلیجی ممالک میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکیوں نے انھیں ایک خوفناک خراب حالات کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔

  4. متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب آئل رِگ میں آگ بھڑک اٹھی, باربرا پلیٹ اشر، بی بی سی نیوز

    میری ٹائم سکیورٹی کی ایک کمپنی امبری کے مطابق ایک تجارتی بحری بیڑے نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک آئل رِگ پر آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔

    امبری کا کہنا ہے کہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے شمال مغرب میں لگنے والی اس آگ کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کسی جہاز کو نقصان یا عملہ زخمی نہیں ہوا ہے۔

    اس خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے جہازوں اور بندرگاہوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

    گذشتہ روز عراق کے علاقائی پانیوں میں بصرہ بندرگاہ کے قریب دو آئل ٹینکرز کو آگ لگا دی گئی تھی۔

    ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک زیرِ آب ڈرون استعمال کیا۔ دیگر رپورٹس میں اس ہتھیار کو ڈرون بوٹ قرار دیا گیا ہے، یعنی ایک بغیر پائلٹ تیز رفتار کشتی جو دھماکہ خیز مواد لے کر چلتی ہے۔

    کسی بھی صورت میں ایران جہاز رانی میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا باقاعدہ بحری بیڑا بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔

  5. روس اور ایران ’عالمی معیشت کو ہائی جیک‘ کرنا چاہتے ہیں: برطانوی وزیرِ خارجہ

    UK, Middle East

    برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ روس اور ایران عالمی معیشت کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے باعث بحری ٹریفک محدود ہو گئی ہے۔

    ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اس راستے میں جہاز رانی کو روکیں گے۔ رات گئے امریکہ نے تاحال روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا۔

    یویٹ کوپر نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات ’طویل عرصے سے ہیں اور دونوں ممالک کی اپنے ’طرزِ عمل‘ اور ’حربوں‘ میں مماثلت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ریاستیں کس طرح ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مل کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ عالمی معیشت کو ہائی جیک کیا جا سکے۔‘

    برطانوی وزیرِ خارجہ کا سعودی عرب میں برطانوی فوجیوں کا دورہ

    یویٹ کوپر نے سعودی صحرا میں برطانوی فوج کے ایئر ڈیفنس یونٹ کا دورہ کیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رائل آرٹلری کے فوجیوں کا یہ دستہ سعودی عرب اور اس کے خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے برطانیہ کے جاری دفاعی عزم کا حصہ ہے۔

    یہ تعیناتی، جسے ’آپریشن کراس ویز‘ کا نام دیا گیا ہے، 2022 میں شروع ہوئی تھی لیکن ایران کی جانب سے روزانہ ڈرون، کروز اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    ریاض میں برطانیہ کے دفاعی اتاشی بریگیڈیئر بین وائلڈ کے مطابق ایران بنیادی طور پر خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنا رہا ہے، برطانوی فوجیوں کو نہیں، اور ساتھ ہی اقتصادی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  6. تہران میں حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کے قریب دھماکے

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہTelegram

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی تہران میں زوردار دھماکوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ہزاروں ایرانی یومِ القدس کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں مارچ میں شریک ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق کچھ دھماکوں کی آوازیں اس مقام کے قریب سنائی دیں جہاں یہ مظاہرہ جاری ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ان دھماکوں کے بعد کے مناظر کی متعدد ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

    بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک دھماکہ دکھایا گیا ہے، جو حکومت نواز ریلی کے قریب ہوا جو یومِ القدس کے موقع پر نکالی گئی تھی۔

    ایران میں یومِ القدس رمضان کے مقدس مہینے کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے فلسطینی مقصد کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کے اظہار کے طور پر قائم کیا تھا۔

    تہران کے مرکزی انقلاب سکوائر کے قریب بنائی گئی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں دھوئیں کا بادل دکھائی دیتا ہے۔

    فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ مارچ کرنے والے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اس سے قبل اس علاقے کے قریب انخلا کی وارننگ جاری کی تھی جہاں یہ ریلی منعقد ہو رہی تھی۔

  7. نیٹو کا ترک فضائی حدود میں ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران سے داغا گیا ایک میزائل نیٹو کے ’اثاثوں‘ نے تباہ کر دیا ہے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک ہتھیار جو ترک فضائی حدود میں داخل ہوا، اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی اثاثوں نے ناکارہ بنا دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک اور اس کی فضائی حدود کے خلاف خطرات کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات پُرعزم طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔

  8. خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل پر حملہ چھ اہلکار ہلاک: ریسکیو 1122

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں شادی خیل بیٹنی کی رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب آئی ای ڈی کے ایک دھماکے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس وین کے قریب شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

    ریسکیو 1122 کے مطابق لکی مروت دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ان چھ پولیس اہلکاروں میں ایس ایچ او صدر اعظم، کانسٹیبل شاہ بہرام، کانسٹیبل شاہ خالد، کانسٹیبل حاجی محمد، کانسٹیبل گل زادہ، کنسٹیبل سخی زادہ شامل ہیں، جبکہ کنسٹیبل انصاف الدین شدید زخمی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاعات ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔

    لکی مروت میں چند دنوں سے تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    لکی مروت میں سنیچر کے دن منجیوالہ کے علاقہ میں ایک مارکیٹ میں دھماکے سے دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے ان میں ایک پولیس امن کمیٹی کے سربراہ کے بھائی بتائے گئے ہیں۔

    اس واقعہ کے بعد اتوار کے کے روز منجیوالہ روڈ کے قریب دو افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ دونوں افراد مقامی طور پر کلعدم تنظیم کے ای کمانڈر کے بھائی تھے۔

    اسی طرح سوموار کے روز تاجہ زئی کے علاقے سے بھی ایک نا معلوم شخص کی لاش ملی تھی جس کی شناخت کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔

    ضلعی پولیس افسر نذیر خان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ابھی یہ تحقیقات جاری تھیں کہ منگل کے روز تختی خیل کے علاقے میں ایک کواڈ کاپٹر سے آبادی پر حملہ ہوا تھا جس میں پانچ بچیاں زخمی ہوگئی تھیں۔

    یہ کشیدگی جاری تھی کہ گزشتہ روز یعنی جمعرات کے دن تختی خیل قوم اور مقامی شدت پسند عناصر کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے لوگ بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف مشرکہ کارروائی کی گئی ہے جس میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی اور نزیر خان اس آپریشن میں شامل تھے اور اور اس کارروائی میں شدت پسند اپنے موٹر سائکل اور دیگر سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

    لکی مروت میں مقامی طور ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آج جمعہ کے روز اب جمعہ نماز سے پہلے پولیس موبائل پر آئی ای ڈی سے حملہ کیا گیا ہے جس میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

  9. ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ ’زخمی‘ لیکن ’ممکنہ طور پر زندہ‘ ہیں: امریکی صدر کا دعویٰ

    Bloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں لیکن ’کسی نہ کسی صورت میں غالباً وہ زندہ ہیں۔‘

    امریکی صدر کا یہ بیان گزشتہ شب ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے بیان کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ شب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پر نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان پڑھ کس سُنایا گیا تھا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای ’معمولی زخمی‘ ہوئے ہیں، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ سے جب مجتبیٰ خامنہ ای کے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے بیان پر سوال ہوا تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت باتیں کر رہے ہیں، تاہم انھیں ان سب کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ ہم اس صورتحال کو بھی دیکھ رہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ہم ان کے اہم ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت جو کارروائیاں ایران کے خلاف جاری ہیں ہم انھیں اس سے بھی زیادہ سختی سے نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں ہوا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امیکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے بعد سے یہ اہم آبی گُزر گاہ مسلسل کئی روز سے بند پڑی ہے یا اس راستے سے بحری جہازوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملے ہوئے ہیں اور کچھ جہاز وہاں پھنس گئے ہیں، جبکہ اس ساری صورتحال کے بعد سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب قریب ہیں۔

  10. اسرائیل کے تازہ حملوں کے بعد تہران میں دھماکوں کی آوازیں

    تہران پر نئے حملوں کا آغاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا کہ اس نے ’ابھی تہران بھر میں ایرانی حکومت کے ’دہشت گردی‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر حملوں کی ایک لہر شروع کر دی ہے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی تصدیق کی تھی اور اس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تہران کے مرکز میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فاطمی سٹریٹ کے قریب اور وزارت داخلہ کی عمارت کے ارد گرد زوردار دھماکے کی آواز سنی گئیں۔

    دوسری جانب تہران کے شمال اور مغرب میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  11. یوم القدس احتجاج: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی تاریخی جامع مسجد کی طرف جانے والے راستے سیل, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یوم القدس کے موقع پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی تاریخی جامع مسجد اور اس کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

    جامع کے خطیب اور علیٰحدگی پسند رہنما میر واعظ عمرفاروق کو اپنے گھر میں دوبارہ نظربند کیا گیا ہے۔

    واضح رہے یکم مارچ کو ایران پر ہونے والے حملے کے خلاف انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے ہوئے تو ایک ہفتے تک وہاں سکیورٹی پابندیاں نافذ رہیں اور انٹرنیٹ بھی معطل رہا۔

    تاہم گزشتہ چند روز کے بعد جمعہ کے روز سیکورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے۔ یہاں کے مفتی اعظم ناصرالدین نے جمعرات کو ہی جمعتہ الوداع کا اعلان کیا تھا۔

    جمعہ کو ہی عالم اسلام میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی زیادتیوں کے خلاف برہمی کے اظہار کے لیے یوم القدس بھی منایا جارہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سرینگر اور دوسرے اضلاع کی بڑی مساجد اور اہم خانقاہوں کے گرد فوُل پروف سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    میرواعظ عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’رمضان کے آخری جمعہ کو جب ہزاروں لوگ شہری علاقوں، قصبوں اور دیہات سے تاریخی جامع مسجد کا رُخ کرتے ہیں، اس مسجد کے سبھی دروازوں کو مقفل کردیا گیا۔ ‘

    انھوں نے لکھا کہ ’گزشتہ سات سال سے حکام نے اس روز جامع مسجد میں عبادت کی اجازت نہیں دی ہے۔‘

    انھوں نے جامع مسجد اور مسجد اقصیٰ کا تقابل کرتے ہوئے لکھا کہ ’جس طرح اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے دروازے رمضان میں زبردستی بند کردیے ہیں، یہی تکلیف دہ حقیقت یہاں بھی ظاہر ہورہی ہے۔ ہمارے دل لہو لہان ہیں ، ہیف اُن پر جو اللہ کے گھر کو مقفل کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے تہران میں ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ہلاکت کے فوراًً بعد شعیہ آبادیوں کے علاوہ سُنی علاقوں میں بھی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔

    یہ مظاہرے شعیہ اکثریتی ضلع کرگل کے علاوہ کشمیر کے سرینگر، پلوامہ، بارہمولہ، پانپور اور دوسرے قصبوں میں ہوئے، جہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک پہنچی، اور یہاں تاریخی گھنٹا گھر کے سامنے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    حالانکہ یہ مظاہرے پرامن طور پر ہی منتشر ہوگئے، تاہم ایک ہفتے تک تعلیمی اداروں بند کئے گئے، تجارتی سرگرمیاں محدود ہوگئیں اور انٹرنیٹ پر پابندی رہی۔

  12. عمان میں ڈرون گرنے سے دو غیر ملکیوں کی ہلاکت

    عمان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    عمان کی خبر رساں ایجنسی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صحار کے الاواحی صنعتی علاقے میں ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایک دوسرا ڈرون بھی صحار کے ایک کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان میں حکام دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  13. ایران کا امریکی طیارہ بردار بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے اور ’غیر فعال‘ کرنے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہX/@CENTCOM

    ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملے میں امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر دُور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔

    بیان میں بحری بیڑے کی اہم تنصیبات بشمول ڈرون مخالف دفاعی نظام، ڈرون کے لیے ذخیرہ اور دیکھ بھال کے علاقے، سپورٹ آلات، اور فیول ٹینک کو درست میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  14. ایرانی حکومت کی اہم شخصیات کو ہلاک کرنا ’میرے لیے اعزاز‘ ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایرانی حکومت کے ارکان کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کو اپنے لیے ’بڑا اعزاز‘ قرار دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ تروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کو فوجی، معاشی اور دیگر طریقوں سے مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ’47 برسوں سے دنیا بھر میں وہ(ایران) بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب میں، بطور امریکہ کا 47 واں صدر انھیں ہلاک کر رہا ہوں۔ یہ کرنا کتنا بڑا اعزاز ہے۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو گئی ہے، ان کی فضائیہ اب موجود نہیں، میزائل، ڈرون اور باقی سب کچھ تباہ کیا جا رہا ہے، اور ان کے رہنماوں کا نشان تک زمین سے مٹا دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس موجود اسلحہ اور جنگی طاقت بہت زیادہ ہے اور بہت زیادہ وقت ہے۔ دیکھیں کہ ان لوگوں کے ساتھ آج کیا ہوتا ہے۔‘

  15. سعودی عرب کا مزید آٹھ ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ

    سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کی فضائی دفاع نے مزید آٹھ ڈرونز گرا دیے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ صوبہ الخرج اور ریاض کے علاوہ یہ ڈرون وسطی اور مشرقی علاقوں میں مار گرائے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے اطلاع دی تھی کہ حملوں کی نئی لہر میں 14 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد مزید آٹھ ڈرونز کے تباہ کرنے کا بیان سامنے آیا ہے۔

  16. اسرائیل پر میزائل حملے میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو باہر نہ نکلنے کی ہدایات

    اسرائیل پر میزائل حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی ایمرجنسی سروسز نے جمعے کی علی الصبح شمالی حصے میں واقع ایک گاؤں پر میزائل گرنے سے درجنوں افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ایم ڈی اے (ماگن ڈیوڈ ادوم) ایمبولینس سروس نے کہا کہ طبی عملے نے 58 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور انھیں ناصرہ کے قریب واقع مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک خاتون جنھیں میزائل کا ایک نوکدار ٹکڑا لگا، وہ قدرے زخمی ہیں جبکہ باقی 57 افراد کو شیشے کے ٹکڑوں سے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کے اہلکاروں کو جائے وقوع پر بھیج دیا گیا ہے۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’فورسز ہنگامی اور ریسکیو اداروں کے تعاون سے موقع پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ علاقے کو کلیئر کیا جا سکے۔

    دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں ای آئی ڈی ایف نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے متاثرہ علاقوں میں موبائل فونز پر وارننگ بھیج دی گئی ہے اور عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مزید اطلاع تک محفوظ جگہوں سے باہر نہ نکلیں۔

  17. پاکستان: یوم القدس پر سکیورٹی کے انتظامات، اسلام آباد اور کراچی میں تعلیمی ادارے بند، ریڈ زون جانے والے راستے سیل

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے مختلف شہروں میں آج ’یوم القدس‘ کے حوالے سے مذہبی جماعتوں کی جانب سے ریلیوں اور اجتماعات کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر سکیورٹی کے پیش نظرمختلف شاہراہوں کو بند کیا گیا ہے اور متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہر سال مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کا آخری جمعہ یوم القدس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے منعقد کیے جاتے ہیں۔

    عالمی یوم القدس کی مناسبت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے فلسطین کے حق میں ریلیاں نکالنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    یوم القدس کی حساسیت کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام تعلیمی اداروں میں بھی آج چھٹی دی گئی ہے۔

    کراچی میں بھی آج یوم القدس کی ریلیوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے باعث کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ملت جعفریہ پاکستان کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’عالمی یومِ القدس کے موقع پر ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں القدس ریلی بعد نماز جمعہ دن ڈیڑھ بجے جامع مسجد اثناعشری جی-6/2 اسلام آباد سے چائنا چوک تک جائے گی۔‘

    اسلام آباد میں کنٹینر لگا کے راستے بند

    کنٹینر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوم القدس کے موقع پر اسلام آباد کے ریڈ زون کو جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے تاہم وہاں موجود سکیورٹی چیک پوسٹس پر معمول سے زیادہ نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ وہاں جانے والے دیگر راستے کنٹینر لگا کر سیل کر دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد میں ریڈ زون جانے والے راستوں پر جا بجا کنٹینرز کھڑے کر دیے ہیں جبکہ ریلی کے راستوں پر بھی ٹریفک کے لیے متبادل روٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے اعلامیے میں درخواست کی گئی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں۔

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ آج نماز جمعہ کے اجتماعات اور یوم القدس کے جلوسوں کے سلسلے میں شہر بھر میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق’ نماز جمعہ کے اجتماعات اور یوم القدس کے جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد پولیس کے 3500 سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ فیصل مسجد سمیت تمام مساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘

    کوئٹہ کی امام بارگاہ کلاں سے شاہ ٹاورز تک القدس ریلی

    پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح آج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی یوم القدس کی ریلی نکالی جائے گی۔

    مجلس وحدت المسلمین کے مقامی رہنما ہادی آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ یوم القدس ریلی کا آغاز امام بارگاہ کلاں سے ہوگا جس کے شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے شاہ ٹاورز تک جائیں گے۔

    ریلی کے روٹ پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔

  18. امریکہ نے پابندی کے شکار ممالک کوعارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے عارضی طور پر پابندیوں کے شکار ممالک کو روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دے دی ہے تاہم شرط یہ ہے کہ وہ تیل پہلے سے جہازوں پرلدا ہوا ہو اور سمندر میں موجود ہو۔

    امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران ’عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینا‘ ہے۔

    صدر ٹرمپ کی یہ اجازت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’یہ محدود اور قلیل مدتی اقدام صرف اس تیل پر لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ترسیل کے مراحل میں ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی نمایاں مالی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘

    یاد رہے کہ جمعرات کو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں اور سٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ ایک مختصر اور وقتی خلل ہے، جو طویل مدت میں ہمارے ملک اور معیشت کے لیے بڑے فائدے کا باعث بنے گا۔‘

    اس سے قبل بیسنٹ نے کہا تھا کہ جیسے ہی عسکری طور پر ممکن ہو امریکی حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حفاظتی سکواڈ کے ساتھ لے جانا شروع کر دے گی۔

    سکائی نیوزسے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی سکواڈ کی ممکنہ ضرورت ’ہماری منصوبہ بندی کا ہمیشہ حصہ رہی ہے۔ جیسے ہی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا ممکن ہوا، ہم یہ کام کر دیں گے۔‘

  19. اسرائیلی فوج کا بیروت میں ’حزب اللہ کے مراکز‘ پر متعدد حملوں کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’حزب اللہ کے انفرسٹرکچر‘ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک تازہ بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ااسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال ہونے والے متعدد کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔

  20. عراق میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی تصدیق

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے عراق کے شہر اربیل میں ایک فرانسیسی فوجی مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    فرانسیسی صدر میکرون نےسوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مسلح افواج کا یہ رکن ایک حملے میں مارا گیا ہے جبکہ کئی دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔‘

    کچھ دیر قبل فرانسیسی فوج نے اعلان کیا تھا کہ تربیتی کارروائی کے دوران اس کے متعدد فوجیوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میں ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کے لیے پوری قوم کی جانب سے محبت اور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ فرانس ان کے ساتھ اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    ایمانوئل میکرون نے خطے میں شدت پسندی کے خلاف لڑنے والی فرانسیسی فورسز پر ہونے والے حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عراق میں ان کی موجودگی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سخت فریم ورک کا حصہ ہے۔ ایران میں جنگ ایسے حملوں کا جواز نہیں بن سکتی۔‘

    ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد مشرق وسطیٰ میں مارا جانے والا یہ پہلا فرانسیسی فوجی ہے۔

Trending Now