’بچوں کی موت کی وجہ کالا جادو‘

ہندوستان میں پولیس نے کہا ہے کہ جن پانچ بچوں کی موت کی وجہ سانپ کا کاٹنا بتائی جا رہی تھی دراصل وہ کالے جادو کا نتیجہ ہے۔
پولیس کے مطابق ریاست مہاراشٹر کے ودھرب علاقے میں مبینہ طور پر ایک ایسے جوڑے نے بچوں کو مار دیا جن کے خود کے بچے نہيں تھے۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اس جوڑ ے نے کالے جادو کی ایک رسم کے تحت یہ کام کیا ہے تاکہ انہیں اولاد کا سکھ حاصل ہو سکے۔
پولیس نے جوڑے اور شوہر کے والدین کو اس سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ جبکہ اہلکاروں کے مطابق بچوں کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے وہ اس تانترک کی تلاش کر رہے ہیں جس نے اس جوڑے کو ایسا کرنے کی تجویز دی تھی۔
پولیس کے مطابق وٹھل اور وندنا موکلے کی بارہ برس قبل شادی ہوئی تھی لیکن کئی ڈاکٹروں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد بھی انہيں اولاد کا سکھ حاصل نہیں ہو سکا تھا۔
اس کیس کی تفتیش کرنے والے شیخ عبدالرؤف نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی ہلاکت میں کہیں نہ کہيں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا ’پہلی موت سنہ دسمبر دو ہزار نو میں ہوئی اور تازہ واقعہ رواں برس مارچ کا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ کیس کی بنیاد یہی ہے کہ چھ بچوں کو زہر دیا گیا ہے جس میں سے ایک زندہ بچا ہے جو بول نہیں پا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بچوں کی عمر دو سے چار برس کے درمیان تھی اور سبھی ایک دوسرے کے رشتےدار تھے۔
ڈيگرا گاؤں کے مقامی باشندوں کو پہلے ایسا محسوس ہوا تھا کہ بچوں کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی ہے کیونکہ ان بچوں کے منہ سے سفید جھاگ نکل رہا تھا اور الٹیاں ہو رہی تھی۔





















