تھرور کو تو جانا ہی تھا!

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان میں خارجی امور کے وزیر مملکت ششی تھرور آئی پی ایل کے تنازعے میں حزب اختلاف کی جانب سے زبردست دباؤ کے بعد وزارت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ششی تھرور
،تصویر کا کیپشنششی تھرور سفارتکار رہے ہیں اور خارجی امور پر انہیں مہارت حاصل ہے

ششی تھرور نے مستعفی ہونے سے پہلے وزیر اعظم منموہن سے ملاقات کی تھی اور کرکٹ آئی پی ایل کے لیے کوچی ٹیم کی خریداری میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کی تھی ۔مسٹر سنگھ نے کانگریس کے سینیئر رہنماؤں سے صلاح ومشورے کے بعد مسٹر تھرور کا استعفی اتوار کی رات منظور کر لیا۔

اس تنازعے کی ابتدامیں حکمراں کانگریس نے تھرور کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں پارٹی نے بظاہر یہ سوچ کر اپنا فیصلہ بدل دیا کہ اسے خواتین کے رزرویشن بل اور جوہری حرجانے جیسے اہم پہلؤوں پر حزب اختلاف کی حمایت کی ضرورت ہے اور اس مرحلے پر اپوزیشن کو برہم کرنا ناعاقبت اندیشی ہوگی۔

یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب اربوں ڈالرمالیت کے انتہائی مقبول کرکٹ کے انڈین پریمیر لیگ یعنی آئی پی ایل کے لیے دو نئی ٹیموں کی قروخت کے لیے نیلامی ہوئی اور اس میں ششی تھرور کی آبائی ریاست کیرالہ کی ایک ٹیم کوچی کو کامیابی ملی۔

آئی پی ایل کےکمشنر للت مودی نے کوچی ٹیم کی ایک حصےدارسونندا پشکر کے شیروں کے بارے میں شکوک ظاہر کیے۔محترمہ پشکر تھرور کی قریبی دوسبت بتائی جاتی ہیں ۔ مودی نے یہ الزام بھی لگایا کہ تھرور نے وزیر کے طور پر اپنے عہدے کا استعمال کیا۔

مسٹر تھرور نے واضح کیا کہ اس عمل میں انہوں نے صرف اپنی ریاست کی مدد کی اور کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی پیسہ لگا ہوا ہے ۔ لیکن اس بار صورتحال ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔

ششی تھرور سفارتکار رہے ہیں اور خارجی امور پر انہیں مہارت حاصل ہے۔ وہ کیرالہ کے تروندرم حلقے سے باضابطہ بڑی کامیابی کے ساتھ منتخب ہوکر سیاست میں داخل ہوئے لیکن ہندستان کی سیاست میں ان کا طریقہءکار غیر روایتی تھا۔

وہ وزارت میں شامل کیے جانے کے فورآ بعد سے ہی تنازعات کا محور رہے۔خارجی امور کے وزیر رہ کر ان کی سب سے` بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اپنے خیالات اور اکثرحکومت سے مختلف خیالات کا اظہار کر دیا کرتے تھے ۔ اپنے خیالات کا اظہار وہ عموما سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ’ ٹویٹر‘ پر کیا کرتے تھے ۔ یہ بھی ملک کے بیشتر سیاستدت دانوں کے لیے کسی بڑے گناہ سے کم نہیں تھا۔

ابتدائی کئی تنازعوں کے بعد، سب سے بڑا تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب مشتبہ امریکی شدت پسند ڈیوڈ ہیڈلی کی حقیقت سامنے آئی اور وزارت خارجہ نے دسمبر میں غیر ملکی سیاحوں کے ویزے کےضابطوں میں بعض اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا۔

تھرور نے ٹویٹر پران نئے ضابطوں کے بارے میں کہا کہ ان سے ہندوستان آنے والے سیاحوں اور یہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو شدید مشکلات کہ سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے وززارت داخلہ کے سوچنے کے انداز پر طنز کرتے ہوئے لکھا تھا ’ممبئی پرحملہ کرنے والے شدت پسند ویزا لے کر نہیں آئے تھے۔‘

تھرور پر کافی نکتہ جینی ہوئی لیکن چند ہی ہفتوں بعد وزارت داخلہ کو ویزا کے نئے ضابطوں پر نظر ثانی کرنی پڑی ۔

جنوری میں مسٹر تھرور نے ایک سیمینار میں نہرو کی خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کی اور کانگریس کے اندر ان کے مخالفین بری طرح برہم ہوئے ۔ انہوں نے بمشکل بگڑتی ہوئی صورتحال سنبھالی۔

لیکن سب سے مشکل صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کے دوران یہ کہا کہ سعودی عرب ہند - پاک تعلقات بہتر بنانے میں ایک’قیمتی معاون‘ ثابت ہو سکتا ہے ۔ ا ن کے اس بیان پر حزب اختلا ف نے زبردست ہنگامہ کیا اور خود وزارت خارجہ اوروزیر اعظم کو اس کی وضاحت کرنی پڑی کہ ہندوستان اپنے اس موقف پر اٹل ہے کہ وہ اپنے باہمی معاملات میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی اجازت نہیں دیتا ۔

اس تنازعے کے بعد تھرورکی کی پارٹی کی قیادت نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ وہ حکومت سے الگ نوعیت کے اپنے خیالات کے اظہار سے گریز کریں اور خود پر قابو رکھیں۔

ایک دیگر معاملے میں چند ہفتے قبل مسٹر تھرور نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ ’ہندوستان میں بحث و مباحثے اور اختلاف رائے کے اظہارکا کلچر ابھی تک پنپ نہیں سکا ہے۔‘

ہندوستان کی سیاست میں تھرور کا طریقئہ کار غیر روایتی تھا اور ہندوستان کے سیاسی نطام کو ہی نہیں ذرائع ابلاغ کو بھی ماضی سے انحراف قابل قبول نہیں ہے ۔ اسی لیے اتوار کی شب جب تھرور نے استعفیٰ دیا تو حزب اختلاف نے ہی نہیں خوشی کا اظہار کیا خود کانگریس نے بھی اطمینان کی سانس لی ہے۔

ایک تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ ’ہندوستان اور ہندوستان کے میڈیا نے تھرورکو، ان کے احساسات کو اور ان کے خیالات کو نہیں سمجھا۔ساتھ ہی وہ پینتیس برس غیر ممالک میں رہنے کے بعد ہندوستان آئے ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔‘

تھرور کو پتہ تھا کہ کہ آئی پی ایل کا تنازعہ تو بس ایک جواز تھا۔ انہوں نےگزشتہ روز ٹویٹر پر اپنے نوجوان حامیوں کے لیے لکھا تھا’ آپ نئے ہندوستان ہیں‘۔ششی تھرور ٹویٹر پر اب اپنے خیالات کے اظہار کے لیے آزاد ہیں۔