آئی پی ایل تنازعہ

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈین پریمئر لیگ کا تیسرا سیزن تو اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے لیکن اصل ایکشن اب سیاسی میدان پر منتقل ہوگیا ہے جہاں نائب وزیر خارجہ ششی تھرور کے استعفے کی مانگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعد کمیونسٹ پارٹی نے بھی ششی تھرور سے اس وقت تک کے لیےمستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے جب تک آئی پی ایل کی نئی ٹیم ’کوچی’ سے ان کی وابستگی کا معاملہ صاف نہیں ہوجاتا۔
اسی پس منظر میں ششی تھرور نے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سے گزشتہ بارہ گھنٹوں میں تیسری مرتبہ ملاقات کی ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ رات پرنب مکھرجی سے ان کی ملاقات میں وزیر دفاع اے کے اینٹونی بھی شامل ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں ششی تھرور نے آئی پی ایل کے چئرمین للت مودی سے اپنے اختلافات اور کوچی کی فرینچائز سے متعلق تنازعہ پر اپنا موقف پیش کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق للت مودی کوچی کو فرینچائز دینے کے حق میں نہیں تھے۔ مودی کا کہنا ہے کہ اس فرینچائز کے پیچھے کون لوگ ہیں، یہ بات ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھی جنہوں نے اس فرینچائز کی جانب سے درخواست داخل کی تھی۔
کانگریس پارٹی نے اب تک ششی تھرور کی حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور مبصرین کے مطابق کانگریس کی حکمت عملی یہ معلوم ہوتی ہے کہ تھرور اگر اپنے کسی قول و فعل کی وجہ سے قانونی یا مزید سیاسی مشکلات میں گھر جاتے ہیں تو پارٹی کی شبیہہ کو زیادہ نقصان نہ پہنچے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب للت مودی نے سوشل نیٹورکنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کوچی فرینچائز کے مالک کمپنی ’رانڈیوو’ کے شئر مالکان کی تفصیلات شائع کیں۔ ان میں ایک نام سوشلائٹ سنندا پشکر کا بھی تھا جو دوبئی میں رہتی ہیں اور جو ششی تھرور کے بہت قریب مانی جاتی ہیں۔
کہا یہ جارہا ہے کہ سنندا پشکر کے پاس اس کمپنی میں ستر کروڑ روپے مالیت کے شئر ہیں۔ سنندا نے یہ اعتراف تو کیا ہے کہ ان کے پاس کمپنی کے شئر ہیں لیکن ان کی مالیت نہیں بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شئر انہیں ان کی پیشہ ورانہ خدامات کے عوض آئندہ برسوں میں دیے جائیں گے۔ سنندا نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ وہ ششی تھرور کے ’فرنٹ’ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
اس پورے معاملے نے سیاسی رنگ اس لیے بھی اختیار کر لیا ہے کہ ششی تھرور کانگریس کے وزیر ہیں جو سونیا گاندھی کے قریب سمجھے جاتے ہیں جبکہ للت مودی کا جھکاؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف مانا چاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
للت مودی اور ششی تھرور کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مودی نے دعوی کیا کہ تھرور نے انہیں فون کرکے کوچی کی ٹیم کو کلئرنس دینے کی سفارش کی تھی۔ لیکن ششی تھرور کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اس فرینچائز کی درخواست کیوں التوا میں پڑی ہوئی ہے۔
ششی تھرور کا کہنا ہے کہ کوچی کی فرینچائز سے ان کی واسبتگی ایک ’مینٹور’ یا سرپرست کے رول تک محدود ہے اور اس ٹیم میں ان کا کوئی پیسہ نہیں لگا ہوا ہے۔
یہ معاملہ دن بہ دن الجھتا ہی جا رہا ہے اور اب کوچی کے ایک ترجمان نےحکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آئی پی ایل میں شامل تمام ٹیموں کے مالکان کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔ یہ سوال ششی تھرور نے بھی اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ للت مودی نے کوچی کے مالکان کی تفصیلات ہی کیوں ظاہر کی ہیں؟
بہر حال، ششی تھرور زبردست سیاسی دباؤ میں ہیں۔ لیکن حکومت میں ان کے رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی امریکہ اور برازیل کے دورے سے واپسی کے بعد ہی کیے جانے کا امکان ہے۔




















