اجمیر دھماکہ: صنعتکار تحویل میں
انڈیا میں پولیس کے ذرائع کے مطابق اجمیر میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے سلسلے میں مدھیہ پردیش سے ایک صنعت کار کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

سن دو ہزار سات میں ہونے والے اس دھماکے میں تین لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے اس مقدمے میں ہندوؤں کی گرفتاری کو اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کے نگار نرائن باریٹھ کے مطابق اس مقدمے میں یہ تیسری گرفتاری ہے۔ انہوں نے پولیس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ صنعتکار سے تفتیش کے بعد ان کو باقاعدہ گرفتار کرنے کا یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پہلے گرفتار ہونے والے افراد کے نام دویندر گپتا اور چندر شیکھر ہیں۔ان دونوں کو مدھیا پردتش سے پکڑا گیا تھا۔
دویندر گپتا اجمیر کے رہنے والے ہیں لیکن وہ مدھیا پردیش اور جھارکنڈ میں رہائش پذیر تھے۔
پولیس کے ذرائع کے مطابق اجمیر میں بم دھماکے کے مقدمے کی جڑیں ریاست مدھیہ پردیش کے دھار ضلع اور مہو کے علاقے میں ہیں۔
نئے گرفتار ہونے والے صنعتکار کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے حملہ آوروں کور سِم کارڈ حاصل کرنے میں اور مالی مدد کی تھی۔
وزیر داخلہ شانتی دھاریوال نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ پولیس پانچ چھ ماہ سے اس مقدمے پر کام کر رہی تھی اور پختہ ثبوت ملنے کے بعد ہی انہوں نے لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

















