’داغدار اظہر الدین‘ اور بھاگتے چور کی لنگوٹ
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
داغدار اظہر الدین

محمد اظہرالدین بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیں یہ تو آپکو معلوم ہی ہوگا۔ بات ذرا پرانی ہے لیکن کرکٹ میں اگر آپ کی دلچسپی ہے تو آپکو یہ بھی یاد ہی ہوگا کہ میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے ان پر تاحیات پابندی لگا دی تھی۔
اظہر کے پاس دولت اور شہرت تو تھی ہی، لہذا انہیں قوم کی خدمت کا خیال آیا اور وہ مرادآباد سے منتخب ہوکر پارلیمان میں پہنچ گئے۔ اب چونکہ قوم کے مسائل حل ہوگئے ہیں، وہ بیڈمنٹن کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا ہے۔
لیکن بیڈمنٹن ایسوسی ایشن ’داغدار کھلاڑیوں‘ کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ تنظیم کے عہدیداران کہہ رہے ہیں کہ اپنے سابقہ ریکارڈ کی وجہ سے اظہر چناؤ لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس دعوے کی قانونی باریکیاں اپنی جگہ لیکن یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
اگر داغدار لوگوں کو کھیل اور سیاست سے دور رکھا جائے تو کام کون کرے گا؟ اور اظہر پارلیمان کے قابل ہیں، بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے نہیں؟
بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے لیے مشورہ تو یہ ہی ہوگا کہ ذرا سنبھل کر۔۔۔ میچ فکسنگ کے الزامات کی صداقت کے بارے میں تو ہمیں پتہ نہیں، لیکن وہ قومی ٹیم کے ’وننگیسٹ‘ (کامیاب ترین) کپتان یوں ہی مشہور نہیں تھے، جب وہ میدان میں ہوں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے!
بھاگتے چور کی لنگوٹ

بھوپال گیس سانحہ آجکل پھر سرخیوں میں ہے۔ وہاں پچیس سال پہلے زہریلی گیس کی زد میں آکر ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ یونین کاربائڈ کے سابق سربراہ وارین اینڈرسن اس کیس میں اصل ملزم ہیں۔ وہ اس حادثے کے بعد بھوپال آئے تو انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پھر کچھ سیاست ہوئی اور انہیں دو ہی گھنٹوں کے اندر پچیس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اور وہ امریکہ واپس چلے گئے۔اب بھوپال کے اس وقت کے کلکٹر نے کہا ہے کہ وارین اینڈرسن نے ضمانت کی رقم بھی جمع نہیں کرائی تھی! اینڈرسن کتنے شاطر ہیں، لنگوٹ بھی اپنے ساتھ لے گئے! اور یہاں لوگ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے انہیں بھارت واپس لانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں!
دس ہزار کروڑ روپے کی عزت

بے پناہ دولت کے مالک صنعت کارمکیش اور انل امبانی سگے بھائی ہیں، ان میں بٹوارے کو لیکر کچھ اختلافات ہوگئے تھے جو اب ختم ہوگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن زمانہ دشمنی میں نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مکیش نے انل پر کچھ الزامات لگائے تھے۔
انل نے ناراض ہوکر مکیش پر دس ہزار کروڑ روپے کا ہتکِ عزت کا دعوی ٹھوک دیا! اب انہوں نے یہ مقدمہ واپس لے لیا ہے۔
سنا ہے کہ عزت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ اور ایک بار چلی جائے تو واپس نہیں آتی۔ انل، آپ کا دس ہزار کروڑ کا نقصان ہوگیا۔۔۔ کبھی فرست ملے تو یہ ضرور بتائیے گا کہ عزت کی قیمت نکالنے کے لیے آپ کیا فارمولہ استعمال کرتے ہیں؟
اور ہاں، کیا آپ کی عزت کی قیمت سٹاک بازار میں آپ کے شئرز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے؟





















