بھارت: ماؤنوازوں کی دو روزہ ہڑتال جاری

ماؤنواز باغی(انڈیا)
،تصویر کا کیپشنماؤنواز باغیوں نے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی ہے

ہندوستان میں ماؤنواز باغیوں نے اپنے ایک رہنماراج چیری کوری کمار عرف آزاد کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف سات ریاستوں میں دوروز کے بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے اس ہڑتال کے پیش نظر ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے ہیں۔

یہ بند منگل کی رات بارہ بجے سے شروع ہوچکا ہے لیکن ابھی تک کسی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔

ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤنواز باغیوں کے ایک ترجمان گڈسا اوسینڈی نے نامعلوم مقام سے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سات اور آٹھ جولائی کو بند کا اعلان کیا گيا ہے۔

ان کا کہنا تھا ان اوقات میں اقتصادی ناکہ بندی کی جائےگي اور چودہ جولائی تک مخالف ہفتہ منایا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے رہنما آزاد کو پولیس نے ناگ پور سے پکڑا تھا اور پھر عادل آباد کے جنگل میں لے جاکر انہیں ایک فرضی مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

’جو حکومت جمہوریت اور آئین کی بات کرتی ہے وہ ایک انقلابی رہنما کو پکڑ کر اس طرح فرضی جھڑپ میں مارتی اور پھر اسے انکاؤنٹر کا نام دیتی ہے تو یہ کہاں کی جمہوریت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس بند کے دوران ماؤنواز ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس سے عوام کو کوئی نقصان پہنچے۔

اس دوران دلی میں کشمیر کی صورت حال اور ماؤنوازوں سے متعلق کابینہ کی ایک اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں اس تمام صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ماؤنواز باغیوں کی ہڑتال کے دوارن عام طور پر ریل سروسز متاثر ہوتی ہیں اس یے ٹرینوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور بہت سی ریل گاڑیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

حالانکہ نکسلیوں نے ریل سروسز کو نشانہ نا بنانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے دودھ، دوا، سبزی، اور ایمبولنس وغیرہ کو ہڑتال سے خارج رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ، اڑیسہ، مغربی بنگال اور بہار کے بعض علاقوں میں اس کا اثر ہونے کا امکان ہے۔