بم دھماکے میں آٹھ پولیس افسر زخمی

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں پولیس حکام کے مطابق ماؤ نواز باغیوں کے نصب کردہ بم پھٹنے سے آٹھ پولیس افسر زخمی ہوگئے ہیں۔
ادھر بھارت کی پانچ ریاستوں میں ماؤ نواز باغیوں کی اپیل پر دو روزہ ہڑتال کی وجہ سے نظامِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والے افسران باغیوں سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
چھتیس گڑھ کے وزیراعلٰی رمن سنگھ بدھ کو رائے پور میں سی پی آر ایف اور پولیس کے اعلٰی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں ماؤ نوازوں سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی پر غور ہوگا۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت کی وزارتِ داخلہ کے حکام بھی چھتیس گڑھ کے وزیراعلٰی سے صورتحال پر بات چیت کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔
بھارتی وفاقی ایجنسیاں پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ اڑیسہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور بہار میں ہڑتال کے دوران سکیورٹی فورسز اور ریلوے لائن جیسی سرکاری املاک پر ’بڑے پیمانے پر ماؤ باغیوں کے حملے‘ کا خدشہ ہے۔
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ پہلے ہی ماؤ نواز باغیوں کو بھارت کا سب سے بڑا اندرونی خطرہ قرار دے چکے ہیں۔
ماؤ باغیوں کی ہڑتال کا آغاز بدھ سے ہوا ہے اور اس موقع پر مشرقی ریاستوں میں کاروبارِ زندگی رک گیا ہے۔
ماؤ باغیوں کے ترجمان کامریڈ راجو نے بی بی سی کے سبیر بھومک کو بتایا ہے کہ انہوں نے ہڑتال کی کال پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور سانحۂ بھوپال کے متاثرین سے وفاقی حکومت کی ’بے رخی‘ کے خلاف دی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’یہ حکومت لوگوں کی مخالف ہے اور وہ لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہی ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو رد کیا کہ وہ ہڑتال کے دوران ریل تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ریلوے بنیادی ضرورت کی چیز ہے کیونکہ عام آدمی اسے استعمال کرتے ہیں‘۔
ادھر بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی ریاستی حکومت نے ماؤ نوازوں کے حالیہ حملے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ان سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی پر نظرِثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماؤ نواز باغیوں نے منگل کو نیم فوجی دستے ’سینٹرل ریزرو پولیس فورس‘ کے دستے پر حملہ کر کے چھبیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
چھتیس گڑھ کے وزیراعلٰی نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلٰی رمن سنگھ کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانیں لوگوں کو نکسلیوں کے خوف سے چھٹکارا دلانے کے لیے قربان کی ہیں۔ ان کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حملہ نکسلیوں کی بزدلی تھی اور عوام اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیوں کو یک زبان ہو کر اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ شدت پسندوں میں ہمت نہیں کہ وہ ہماری بہادر فوج سے سامنے آ کر لڑ سکیں‘۔
بھارتی حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر سے ماؤ نواز باغیوں کے خلاف آپریشن گرین ہنٹ کے نام سے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔چھتیس گڑھ سمیت پانچ ریاستوں میں جاری اس آپریشن میں پچاس ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔




















