امیت شاہ کیس: ’حکومت کا ہاتھ نہیں‘

بھارت کی پارلمینٹ کااجلاس شروع ہونے سے قبل وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی گرفتاری میں ان کی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی گرفتاری مین ان کی حکومت کا کوئی ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا ہے وہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہیں ۔
بی جے پی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور حزب اختلاف کو اس کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے۔
’سہراب الدین معاملے کی تحقیقات سی بی آئی سپریم کورٹ کی ہدایت پر کر رہی ہے۔ اس میں مرکزی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ حکومت نے تفتیش کے عمل پر کسی طرح بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ہے۔‘
تاہم بی جے پی نے مسٹر سنگھ کے اس بیان کو رد کرتے ہوئے اس الزام کو دہرایا ہے کہ حکومت سی بی آئی کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنما وینکیا نائیڈو نے کہا ’کیا سہراب ا لدین کوئی قومی ہیرو ہے جس کے معاملے میں گجرات کے وزیر داخلہ تک کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
گجرات کے سابق وزیر داخلہ سات اگست تک احمدآباد کی جیل میں رہیں گے۔ وہ پیر کو ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت کی درخواست داخل کرنے والے ہیں۔
سی بی آئی نے اس دوران ریاست کے دو سابقہ پولیس سربراہوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔
سی بی آئی نے ابھی تک امیت شاہ سے پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں نہیں لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی کو سہراب الدین فرضی جھڑپ معاملے کی تفتیش کی مکمل رپورٹ تیس جولائی تک سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے ۔
سی بی آئی کو پیر کے روز ایک اور کامیابی اس وقت ملی جب پہلے سے گرفتارشدہ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے سرکاری گواہ بننے کی درخواست کی۔





















