سہراب الدین معاملہ: وزیر داخلہ طلب

ہندوستان کے مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی نے گجرات کے وزیر داخلہ امت شاہ کو اپنے دفتر طلب کیا ہے ۔ سی بی آئی مسٹر شاہ سے سہراب الدین جعلی تصادم کے معاملے میں پو چھ گچھ کرنے والی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے انہیں گاندھی نگر میں واقع اپنے دفتر میں دوپہر ایک بجے تک حا ضر ہونے کے لیے کہاہے ۔

سی بی آئی سہراب الدین کیس کی کئی ہفتے سے تفتیش کر رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس نے مسٹر شاہ کے خلاف اس سلسلے میں کافی ثبوت جاصل کرنے کے بعد انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔

امت شاہ وزیر اعلی نریندر مودی کے سب سے قریبی معتمد بتائے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر سہراب الدین معاملے کی تفتیش پہلے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم اور بعد میں سی بی آئی کے حوالے کیے جانے کے بعد مسٹر امت کی ممکنہ گرفتاری کے بارے گزشتہ دو ہفتے سے خبریں گرم ہیں۔

سہراب الدین شیخ کو گجرات پولیس نے نومبر 2005 میں احمد آباد کے نزدیک ایک جعلی جھڑپ میں لشکر طیبہ کا شدت پسند بتا کر ہلاک کر دیا تھا ۔ پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ وہ وزیر اعلی مودی کو قتل کرنے کے مشن پر آیا تھا۔ اس واقعہ کی تفتیش کے بعد گجرات کے انسداد دہشت گردی شعبے کے سربراہ سمیت دس سے زیادہ پولیس افسرگرفتار کیے جا چکے ہیں اور وہ جیل میں ہیں ۔

سی بی آئی نے حال میں احمد آباد کے کرائم برانچ کے سربراہ کو بھی اسی معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔

بعض خبروں میں بتایا گیا ہے کہ تفتیشی ادارے نے انکاؤنٹر کے درمیا ن امت شاہ اور ملزم پولیس افسروں کے ٹیلی فون ریکارڈ حاصل کیے ہیں ۔ اس طرح کی بھی خبریں ہیں کہ سی بی آئی نے بعض ملزموں کے اقبالیہ بیانات ریکارڈ کیے ہیں جن سے اس واقعے کی تفصیل سامنے آتی ہے ۔

تفتیش کے مطابق پولیس نے سہراب ا لدین کے بعد ان کی بیوی کو ثر بی اور اس واقعے کے چشم دید گواہ تلسی رام پرجا پتی کو بھی قتل کر دیا تھا ۔ سی بی آئی اور سی آئی ڈی ان واقعات کی بھی تفتیش کر رہی ہین ۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی سے کہا ہے کہ وہ یہ بھی پتہ لگائے کہ یہ واقعہ کسی سازش کا حصہ تو نہیں ہے ۔

اگر امت شاہ کو گرفتار کیا گیا تو بی جے پی کی مرکزی قیادت اس کے خلاف ضرور احتججاج کرے گی۔

بی جے پی کے رہنا پہلے بھی کہ چکے ہیں کہ مرکز مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مودی حکومت کے خلاف سی بی آئی کو استعمال کر رہی ہے ۔

لیکن بی جے پی کے سامنے مسلہ یہ ہے کہ سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا حکم حکومت نے نہیں ملک کی؛ سب سے بڑی عدالت نے دیا ہے ۔

گجرات میں سہراب الدین کا معاملہ ہی نہیں متعد د دوسرے تصادموں کے بارے میں بھی شکوک ظاہر کیے جا رہے ہیں ۔ ایک دیگر واقع میں حال میں ایک عدالتی تحقیقات نے ممبئی کی بی ایس سی کی ایک طالبہ عشرت جہاں اور اس کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کو 'پولیس کے ہاتھوں دن دہاڑے قتل' ' قرار دیا تھا ۔ پولیس نے انہیں بھی لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتایا تھا اور وہ بھی بقول ان کے مسٹر مودی کو قتل کرنے کے مشن پر تھے ۔