کشمیر میں کرفیو، آٹھ افراد ہلاک

بھارت کے زیر انتظام پوری کشمیر وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو کا اعلان اور مختلف واقعات میں آٹھ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
اتوار کے روز مشتعل ہجوم نے سرینگر کے قریب کریو علاقے میں پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی۔ پولیس سٹیشن کے احاطے میں پڑے بارود کو آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا۔
پولیس کے مطابق اس دھماکے میں چار افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے۔ تاہم ایک مقامی باشندے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے سے پولیس سٹیشن کے باہر موجود پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
اس سے قبل کریو ہی میں ایک مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سترہ سالہ لڑکی سمیت دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔
اس سے قبل جنوبی قصبہ پانپور میں اتوار کو کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے دو نوجوان پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں کے نام بیس سالہ نعیم احمد شاہ اور سترہ سالہ مظفر گنائی بتائے گئے۔ فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
زعفران کی کاشت کے لیے مشہور پانپور قصبہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مشتعل نوجوانوں نے مقامی عدالت، تحصیل آفس اور بجلی محکمہ کی عمارتوں کو آگ لگا دی۔ واضح رہے سنہ دو ہزار آٹھ میں ’مظفرآباد مارچ‘ کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہونے والے سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنما شیخ عبدالعزیز کا تعلق بھی پانپور سے تھا۔
دونوں کے جنازے میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنازے پانپور کے عیدگاہ کی طرف جا رہے تھے تو پولیس نے اس پر فائرنگ کی جس میں پانچ سالہ لڑکی سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعہ سے جاری تازہ کشیدگی میں اب تک آّٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ گیارہ جولائی سے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ میں مرنے والوں کی تعداد پچیس ہوگئی ہے۔

پانپور میں سنیچر کو بارہ مولہ اور پٹن کی ہلاکتوں کے خلاف لوگ مشتعل ہوگئے تھے اور مقامی نوجوانوں نے انڈین ائرفورس کی دو گاڑیوں کو روک کر ان میں آگ لگا دی تھی۔ ان میں سوار بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے رات بھر مقامی بینک کے احاطہ میں پناہ لی اور اتوار کو فوج کے دستے نے آ کر انھیں وہاں سے نکالا۔
اس کے بعد پانپور چوک میں نوجوان جمع ہونے لگے اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے سیدھی فائرنگ کی جس میں بیس سالہ نعیم شاہ اور سترہ سالہ تنویر ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد تنویر کی ماں کو دل کا دورہ پڑا جس کے بعداس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
اس دوران پوری وادی میں غیر معینہ مدّت کے لیے کرفیو کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم پانپور کے علاوہ بارہ مولہ اور اننت ناگ اضلاع میں لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور جلوس نکالے۔ اِدھر سرینگر کی مرکزی عبادت گاہ حضرت بل کے گرد و نواح میں ہزاروں لوگوں نے ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے۔
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مشتعل مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔






















